Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ ان کی رپورٹ کا خلاصہ حسب ذیل ہے : Losers tended to be more depressed and confused before competing, while the winners were positive and relaxed. تجربہ میں پایا گیا کہ ہارنے والے کھلاڑی مقابلہ سے پہلے ہی بدل اور پریشان تھے ، جب کہ جیتنے والے پر اعتماد اور مطمئن تھے ۔ (ٹائمز آف انڈیا 26 جولائی 1981) یہی بات زندگی کے وسیع تر مقابلہ کے لیے بھی درست ہے ۔ زندگی کے میدان میں جب دو آدمیوں یا دو گروہوں کا مقابلہ ہوتا ہے تو کامیاب ہونے یا نہ ہونے میں اصل فیصلہ کن چیز یہ نہیں ہوتی کہ کس کے پاس مادی طاقت یا ظاہری ساز وسامان زیادہ ہے اور کس کے پاس کم ۔ بلکہ اصل فیصلہ کن چیز قلب اور دماغ کی حالت ہوتی ہے ۔ جس کے اندر قلبی اور ذہنی اوصاف زیادہ ہوتے ہیں وہ کامیاب ہوتا ہے اور جس کے اندر یہ اوصاف کم ہوتے ہیں وہی ناکام ہو جاتا ہے خواہ اس کے پاس ظاہری اسباب کی کثرت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو ۔ مقصد کی صحت کا یقین ، تضاد فکری سے خالی ہونا ، نظم و ضبط کو کبھی نہ چھوڑنا ، ہیجان خیز لمحات میں بھی ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ، جذبات پر پوری طرح قابو رکھنا ، ہمیشہ سوچے سمجھے اقدام کے تحت عمل کرنا یہ تمام قلب و دماغ سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں اور یہی وہ چیزیں ہیں جو زندگی کے معرکہ میں ہمیشہ فیصلہ کن ہوتی ہیں ۔ تعمیری مزاج ڈاکٹر عبدالجلیل صاحب (نئی دہلی) 1970 میں جاپان گئے تھے اور وہاں چھ مہینے تک رہے۔ انہوں نے 14 اکتوبر 1984 کی ایک ملاقات میں بتایا کہ میں ٹوکیو میں مقیم تھا اور اپنے کام کے تحت ٹوکیو سے ایک مقام پر جایا کرتا تھا۔ یہ سفر ٹرین سے پندرہ منٹ میں طے ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز وہ ٹوکیو سے ٹرین پر سوار ہوئے۔ پندرہ منٹ گزر گئے مگر ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page