تعمیری مزاج
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
کا مطلوبہ اسٹیشن نہیں آیا۔ ایک اسٹیشن پر ٹرین رکی مگر انہوں نے بورڈ دیکھا تو یہ کوئی دوسرا اسٹیشن تھا۔ اب تشویش ہوئی۔ ان کو خیال ہوا کہ غالباً وہ کسی غلط ٹرین پر سوار ہو گئے ہیں۔ ڈبہ میں ان کے قریب ایک جاپانی نوجوان کھڑا ہوا تھا۔ مگر زبان کی مشکل تھی۔ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب جاپانی زبان نہیں جانتے تھے اور وہ شخص انگریزی زبان سے نا واقف تھا۔ انہوں نے یہ کیا کہ ایک کاغذ پر اپنے مطلوبہ اسٹیشن کا نام لکھا اور جاپانی نوجوان کو اسے دکھایا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس درمیان میں ٹرین چل چکی تھی مگر ابھی اس نے پلیٹ فارم نہیں چھوڑا تھا۔ نوجوان نے ڈاکٹر صاحب کا کارڈ دیکھتے ہی فوراً زنجیر کھینچی۔ ٹرین رکی تو وہ ڈاکٹر صاحب کو لے کر نیچے اترا۔ اب وہ ان کے ساتھ چلنے لگا۔ اس کے بعد اس نے ان کو مخالف سمت سے آنے والی دوسری ٹرین پر بٹھایا اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھا۔ ٹرین دونوں کو لے کر روانہ ہوئی ۔ چند منٹ میں ڈاکٹر صاحب کا مطلوبہ اسٹیشن آگیا۔ اب نوجوان ان کو لے کر اتر اور یہاں چھوڑ کر دوسری ٹرین سے وہاں کے لیے روانہ ہو گیا جہاں اس کو جانا تھا۔ اس دوران دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب جاپانی زبان نہیں جانتے تھے اور جاپانی نوجوان انگریزی زبان سے نا واقف تھا۔ اسی طرح مثلاً انہوں نے بتایا کہ میں کسی سڑک پر تھا۔ میں نے دیکھا کہ دو جاپانیوں کی کار آمنے سامنے سے آتے ہوئے ٹکرا گئی، دونوں اپنی گاڑی سے اتھرے اور ایک دوسرے کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے ۔ ایک نے کہا کہ غلطی میری ہے، مجھے معاف کر دو۔ دوسرے نے کہا غلطی میری ہے مجھے معاف کر دو۔ اسی کا نام تعمیری مزاج ہے، اور یہی تعمیری مزاج قوموں کی ترقی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اس کے برعکس، جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ وہ صرف اپنے کو جانیں اور دوسرے کو نہ جانیں وہ کبھی کوئی بڑی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader