Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

کو عقل کی صلاحیت عطا فرمائی۔ اب اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ انسان زمین سے خام مواد لے کر اس کو مشین کی صورت دے۔ وہ بغیر گھڑے ہوئے مادہ کو گھڑے ہوئے مادہ میں تبدیل کرے۔ یہ فطرت کی قوتوں کو تمدن میں ڈھالنے کی مثال ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بہترین شخصیت عطا فرمائی۔ فطرت کی سطح پر اس کو اعلیٰ ترین وجود عطا فرمایا۔ تاہم یہ انسانی شخصیت اپنی ابتدائی صورت میں ایک قسم کا خام مواد ہے۔ اب یہ کام خود انسان کو کرنا ہے کہ وہ خدا کے دیے ہوئے اس ابتدائی وجود کی تشکیل نو کرے۔ وہ فطرت کے سادہ ورق پر اپنا کلام تحریر کرے ۔ یہی انسان کا امتحان ہے۔ اسی معاملہ میں کامیابی یا ناکامی پر اس کے مستقبل کا انحصار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعور کو معرفت میں ڈھالے۔ اپنے احساسات کو ذکر الہی میں تبدیل کرے۔ وہ اپنے عمل کو ربانی کردار کی صورت میں ظاہر کرے۔ وہ اپنی شخصیت کو آخری حد تک خدا کا بندہ بنا دے۔ ایک انسان وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو ہر شخص اپنے آپ بناتا ہے۔ آدمی اپنی ماں کے پیٹ سے گو یائی لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اب کوئی انسان اپنی گویائی کو حق کے اعتراف کی طرف لے جاتا ہے اور کوئی حق کے انکار کی طرف۔ آدمی اپنی ماں کے پیٹ سے اعلی صلاحیت لے کر موجودہ دنیا میں آتا ہے۔ اب کوئی شخص اس صلاحیت کو فوری فائدے کے حصول میں لگتا ہے اور کوئی اس کو اعلی مقصد کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ ہر آدمی فطرت کی ایک زمین ہے۔ کوئی اپنی زمین پر کانٹے اگاتا ہے اور کوئی ہے جو اپنی زمین پر پھولوں کا باغ بنا دیتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو جنت کا باشندہ بناتا ہے اور کوئی جہنم کا باشندہ۔ یہ خوش اخلاقی خوش اخلاقی کی سب سے زیادہ عام قسم وہ ہے جو بد اخلاقی کی بدترین قسم ہے۔ اس کی ایک صورت وہ ہے جس کو تاجرانہ اخلاق کہا جا سکتا ہے۔ ایک کامیاب دکاندار اپنے ہر گاہک سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page