راز حیات
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم ہوا کہ مسٹر اجوانی دوا ساز کمپنی کے سیلز مین ہیں تو اسی وقت اس نے خود اپنی طرف سے دواؤں کا ایک بڑا آرڈر لکھوا دیا۔ اور کہا کہ ہمارے یہاں دواؤں کی کھپت بہت ہے۔ آپ تو ہم کو مستقل گاہک سمجھ لیجئے اور ہر مہینہ دوائیں بھیجتے رہیے۔ مسٹر اجوانی کھانے اور ملاقات سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آئے اور اسی وقت کلکتہ میں اپنے ڈائریکٹر کو ٹرنک کال کیا۔ انہوں نے اپنے ڈائریکٹر کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر سے میں نے اتنے ہزار کا آرڈر حاصل کر لیا ہے۔ ڈائریکٹر نے فوراً کہا کہ تم غلط کہہ رہے ہو۔ ایسا تو کبھی ہو نہیں سکتا۔ تاہم اگلی ڈاک سے جب ڈائریکٹر کے پاس مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کا چیک اور اس کا دستخط شدہ آرڈر پہنچا تو اس کو معلوم ہوا کہ وہ واقعہ بالفعل پیش آ چکا ہے جس کو وہ اب تک ناممکن سمجھے ہوئے تھا۔ 21 نومبر 1980 کی ملاقات میں میں نے مسٹر اجوانی سے پوچھا کہ آپ کو تجارت کا بہت تجربہ ہے۔ یہ بتائیے کہ تجارت میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: میٹھی زبان، اچھا سلوک۔ میں نے کہا ہاں، اور اس وقت بھی جب کہ بظاہر اس کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔ میٹھی زبان اور اچھا سلوک ہر حال میں مفید ہے، لیکن اگر وہ آدمی کا عام اخلاق بن جائے تو اس کے فائدوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ تعمیر خویش اللہ تعالیٰ نے لکڑی پیدا کی مگر اس نے کشتی نہیں بنائی۔ اس نے لوہا زمین میں رکھ دیا مگر اس نے لوہے کو مشین کی شکل میں نہیں ڈھالا۔ اس نے المونیم اور پلاسٹک پیدا کیا مگر ان کو جہاز کی صورت میں تشکیل دینے کا کام چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرا کام اللہ تعالیٰ انسان سے لینا چاہتا ہے۔ اللہ نے ایک طرف ہر قسم کے خام مواد پیدا کیے ۔ اور دوسری طرف انسان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader