کردار کی طاقت
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
کردار کی طاقت لوگ عام طور پر دو ہی قسم کے لوگوں کو طاقت ور سمجھتے ہیں۔ ایک وہ جن کے پاس مادی چیزوں کا ڈھیر ہو۔ دوسرے وہ جو دادا گیری کرنا جانتے ہوں۔ مگر طاقت کا سب سے بڑا راز کردار ہے۔ مزید یہ کہ کردار ایک ایسی چیز ہے جس کا مالک ہر ایک آدمی بن سکتا ہے۔ اس کے لیے نہ مادی دیو ہونا ضروری ہے اور نہ جسمانی پہلوان ہونا۔ مولانا محمد قاسم قاسمی (پیدائش 1957) مدرسہ حسین بخش دہلی میں استاد ہیں اور اسی کے ساتھ ایک مسجد میں امام ہیں۔ موصوف نے دہلی میں گھڑی کی مرمت کی دکان کھولی۔ ان کو اپنی دکان پر بٹھانے کے لیے ایک کاریگر کی ضرورت تھی۔ اس اثناء میں یہ ہوا کہ ایک روز ان کی مسجد میں ایک شخص نے نماز پڑھی۔ عمر تقریباً 40 سال تھی۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ ان کا نام محمد دین کشمیری ہے اور وہ گھڑی کا کام جانتے ہیں۔ ”آپ دہلی میں کیسے آئے؟“ مولانا محمد قاسم نے پوچھا۔ ”کام کی تلاش میں“ محمد دین کشمیری نے جواب دیا۔ ”آپ گھڑی کی مرمت کا کام جانتے ہیں“۔ ”الحمد للہ جانتا ہوں اور میں اپنے کام پر مطمئن ہوں“۔ ”دہلی میں کوئی آدمی ہے جو آپ کی ضمانت لے سکے“۔ ”میرا ضامن صرف اللہ ہے۔ اگر آپ کو اللہ کی ضمانت پر اطمینان ہو تو میں اس کو اپنی ضمانت میں پیش کر سکتا ہوں“ محمد دین کشمیری کے اس انداز نے مولانا قاسم کو متاثر کیا اور انہوں نے ان کو اپنی دکان پر رکھ لیا۔ اب اس واقعہ کو کئی مہینے گزر چکے ہیں اور خدا کے فضل سے دونوں فریق مطمئن ہیں۔ مولانا محمد قاسم صاحب کی دکان بھی کامیاب ہے اور محمد دین کشمیری صاحب کو بھی روزگار مل گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader