Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ کردار خود اپنے اندر طاقت رکھتا ہے۔ اگر آدمی با کردار ہو تو اس کا با کردار ہونا اس کی زبان میں یقین اور عزم کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے اور جہاں یقین اور عزم آجائے وہاں کامیابی اسی طرح آتی ہے جس طرح سورج کے بعد روشنی اور پانی کے بعد سیرابی۔ کردار کا معاملہ انسان مادہ کو تمدن میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ سادہ چیزوں کو استعمال کر کے شاندار شہر وجود میں لاتا ہے۔ ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ اس کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے چیزوں کے اندر کچھ لازمی اوصاف کا ہونا۔ آدمی انھی فطری خصوصیات کو دریافت کر کے انھیں کام میں لاتا ہے۔ یہ خصوصیات گویا چیزوں کا کیرکٹر (کردار) ہیں۔ ہر چیز کا ایک متعین کیرکٹر ہے جس کو وہ لازماً ادا کرتی ہے۔ یہی وہ کیرکٹر کی یقینیت ہے جس کی وجہ سے زندگی کی تمام سرگرمیاں اور ترقیاں ممکن ہوتی ہیں۔ اگر یہ یقینیت باقی نہ رہے تو اچانک پورا انسانی تمدن کھنڈر ہو کر رہ جائے گا۔ اگر ایسا ہو کہ ایک دریا کے اوپر لوہے کا پل کھڑا کیا جائے اور پھر معلوم ہو کہ وہ موم کی طرح نرم ہے۔ پتھر اور سیمنٹ کے ذریعہ کئی منزلہ بلڈنگ بنائی جائے اور وہ ریت کا ڈھیر ثابت ہو۔ انجن میں پٹرول بھرا جائے مگر جب انجن کو چلایا جائے تو پٹرول توانائی میں تبدیل نہ ہو۔ مقناطیسی میدان (Magnetic Field) اور حرکت (Motion) کو یکجا کیا جائے مگر الیکٹران متحرک ہو کر بجلی پیدا نہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزوں نے اپنا کیرکٹر کھو دیا ہے۔ اور اگر چیزیں اپنا متعین کیرکٹر کھودیں تو تمدن کی تعمیر ناممکن ہو جائے۔ تمدن اسی وقت بنتا ہے جب کہ اس کے ضروری مادی اجزاء اس کردار کو ادا کریں جس کی ان سے توقع کی گئی ہے۔ اگر برف کی فیکٹری میں پانی جمنے کے بجائے بھاپ بن کر اڑنے لگے تو آئس فیکٹری کا وجود بے معنیٰ ہو جائے گا۔ اگر بھٹی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page