Urdu book · راز حیات

اعتبار پیدا کیجئے

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اس کو ادھار کپڑا دینے لگا۔ جب آدمی ادھار پر کپڑے لاتا تو اس کی کوشش رہتی کہ وعدہ سے کچھ پہلے ہی اس کی ادائیگی کر دے۔ وہ اسی طرح کرتا رہا۔ یہاں تک کہ تھوک فروش کی نظر میں اس کا اعتبار بہت بڑھ گیا۔ اب وہ اس کو اور زیادہ کپڑے ادھار دینے لگا۔ چند سال میں یہ نوبت آگئی کہ تھوک فروش اس کو پچاس ہزار اور ایک لاکھ روپے کا کپڑا بے تکلف دیدیتا۔ وہ اس کو اس طرح مال دینے لگا جیسے کہ وہ اس کے ہاتھ نقد فروخت کر رہا ہو۔ اب آدمی کا کام اتنا بڑھ چکا تھا کہ اس نے ایک دکان لے لی۔ دکان بھی اس نے نہایت اصول کے ساتھ چلائی۔ وہ تیزی سے بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے شہر میں کپڑے کے بڑے دکانداروں میں شمار کیا جانے لگا۔ اس دنیا میں بڑی دولت روپیہ نہیں، اس دنیا میں سب سے بڑی دولت اعتبار ہے۔ اعتبار کی بنیاد پر آپ اسی طرح کوئی چیز لے سکتے ہیں جس طرح نوٹ کی بنیاد پر کوئی شخص بازار سے سامان خریدتا ہے۔ اعتبار ہر چیز کا بدل ہے۔ مگر اعتبار زبانی دعووں سے قائم نہیں ہوتا اور نہ اعتبار ایک دن میں حاصل ہوتا ہے۔ اعتبار قائم ہونے کی صرف ایک ہی بنیاد ہے اور وہ حقیقی عمل ہے۔ خارجی دنیا اس معاملہ میں انتہائی حد تک بے رحم ہے۔ لمبی مدت تک بے داغ عمل پیش کرنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے کہ لوگ آپ کے اوپر اعتبار قائم کریں جو اعتبار مذکورہ تھوک فروش نے ایک پھیری والے کے اوپر قائم کیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page