Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسے انسان اجتماعی زندگی کے لیے اسی طرح اہم ہیں جس طرح لوہا اور پٹرول تمدنی زندگی کے لیے۔ لوہا اور پٹرول کے بغیر کوئی تمدن نہیں۔ اسی طرح پختہ کردار آدمیوں کے بغیر کوئی اجتماعی زندگی نہیں۔ ایک انسان کو جہاں وعدہ پورا کرنا چاہیے وہاں وہ وعدہ خلافی کرے۔ جہاں اس کو شرافت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے وہاں وہ کمینہ پن کا طریقہ اختیار کرے۔ جہاں اس کو فیاضی دکھانا چاہیے وہاں وہ تنگ ظرفی کا ثبوت دے۔ جہاں اس کو بڑا پن کا مظاہرہ کرنا چاہیے وہاں وہ چھوٹا پن دکھائے۔ جہاں اس کو معاف کر دینا چاہیے وہاں وہ انتقام لینے لگے۔ جہاں اس کو اطاعت کرنا چاہیے وہاں وہ سرکشی کرنے لگے۔ جہاں اس کو اعتراف کر لینا چاہیے وہاں وہ ہٹ دھرمی دکھانے لگے۔ جہاں اس کو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرنا چاہیے وہاں وہ اس کی پردہ دری کرنے پر تل جائے۔ جہاں اس کو ایثار سے کام لینا چاہیے وہاں وہ خود غرضی سے کام لینے لگے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے اپنا انسانی کردار کھو دیا ہے۔ وہ اس امید کو پورا نہیں کر رہا جو اجتماعی نظام کا ایک جزء ہونے کے اعتبار سے اس سے قائم کی گئی تھی۔ جس اجتماعی معاشرہ کا یہ حال ہو کہ اس کے افراد اپنا انسانی کردار کھو دیں وہاں صرف انتشار کا راج ہوگا، وہاں کوئی مستحکم اجتماعی نظام نہیں بن سکتا۔ اعتبار پیدا کیجئے ایک آدمی نے کاروبار شروع کیا اس کے پاس مشکل سے چند سو روپے تھے۔ وہ کپڑے کے ٹکڑے خرید کر لاتا اور پھیری کر کے اس کو فروخت کرتا۔ کچھ کام بڑھا تو اس نے ایک دکان والے سے اجازت لے کر اس کی دکان کے سامنے پٹری پر بیٹھنا شروع کر دیا۔ کپڑے کے جس تھوک فروش سے وہ کپڑا خریدتا تھا اس سے اس نے نہایت اصول کا معاملہ کیا۔ دھیرے دھیرے اس تھوک فروش (wholesaler) کو اس آدمی کے اوپر اعتبار ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page