حقیقت پسندی
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
اس شہر پر کیسی قیامت آئی تھی ۔ ہندوستان ٹائمس (نئی دہلی) کے ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ جاپان گئے تھے۔ اپنے سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے جاپان میں ایک بے حد عجیب بات دیکھی ۔ جب کہ بقیہ دنیا نے ہیروشیما اور ناگاساکی کے واقعات کو بہت بڑے پیمانہ پر امریکا کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا ہے، خود جاپانی ان واقعات کو امریکا کے خلاف نہیں لینے۔ خوشونت سنگھ نے اپنے جاپانی رفیق سے اس کی بابت سوال کیا تو خلاف توقع اس نے نرم لہجہ میں کہا: We hit them first at Pearl Harbour. We killed a lot of them. They warned us of what they were going to do but we thought they were only bluffing. They beat us fair and square. We were quits. And now we are friends. پہلے ہم نے ان کے پرل ہاربر پر حملہ کیا۔ ہم نے ان کے بہت سے لوگوں کو مار ڈالا۔ اس کے جواب میں وہ جو کچھ کرنے والے تھے اس سے انہوں نے ہمیں آگاہی دی۔ مگر ہم نے سمجھا کہ یہ محض دھونس ہے۔ انہوں نے ہمیں کسی دھوکے کے بغیر کھلے طور پر مارا۔ پہلے ہم ایک دوسرے سے دور تھے۔ اب ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (ہندوستان ٹائمس ، 4 اپریل 1981)۔ ایٹمی حملہ سے مرنے والوں کی یادگار ہیروشیما میں قائم کی گئی ہے ۔ امن میوزیم (Peace Museum) میں جنگی تباہ کاریوں کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھنے کیلئے ہر سال تقریباً 70 لاکھ جاپانی ہیروشیما آتے ہیں۔ گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عام جاپانی کے دل میں امریکا کے خلاف نفرت چھپی ہوئی موجود ہے۔ تاہم وہ اپنے عملی رویہ میں اس کا اظہار ہونے نہیں دیتے ۔ انہوں نے اپنے مخالفانہ جذبات پر حقیقت پسندی کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ جاپانیوں کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ جنگ کے بعد بہت تھوڑی مدت میں انہوں نے دوبارہ غیر معمولی ترقی کرلی۔ ان کے یہاں نہ تیل نکلتا ہے اور نہ ان کے پاس معدنیات کی کانیں ہیں ۔ ان کو بیشتر خام مال باہر سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود جاپان آج اپنے اعلیٰ سامانواں کی بدولت دنیا کی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader