Urdu book · راز حیات

حقیقت پسندی

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر خشونت سنگھ نے جاپان میں وکیلوں کی بابت معلوم کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہاں وکالت کے پیشہ کا حال اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہوتی ہے تو وہ عدالت میں جانے کے بجائے باہمی گفتگو سے اس کو طے کرلیتے ہیں۔ جب آدمی اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار ہو تو جھگڑا کبھی آگے نہیں بڑھتا۔ جھگڑا ختم نہ ہونے کی وجہ اکثر حالات میں یہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی ایک طرفہ طور پر دوسرے کو الزام دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے دوسرے کے اندر بھی ضد پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور مسئلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب ایک فریق اپنی جانب کی غلطی مان لے تو دوسرے کے اندر بھی جھکاؤ پیدا ہوگا اور مسئلہ وہیں کا وہیں ختم ہو جائے گا۔ اس حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کا جاپان کو یہ بہت بڑا فائدہ ملا ہے کہ ایک جاپانی دوسرے جاپانی پر اعتماد کرتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں تجارتی معاہدے اور تجارتی خط و کتابت عام طور پر ایسے ماہرین انجام دیتے ہیں جو بہت بندھے ہوئے الفاظ اور قانونی پہلوؤں کی کامل رعایت کرنے والی زبان لکھنا جانتے ہیں۔ مگر جاپانی اپنا وقت اس قسم کے تحریری مسودات تیار کرنے میں ضائع نہیں کرتے۔ امریکہ میں قانون دانوں کی تعداد 50 ہزار ہے جبکہ جاپان میں قانون دانوں کی تعداد صرف 11 ہزار ہے۔ جاپان میں ایسے لفظی ماہرین کا زیادہ کام ہی نہیں۔ جاپان کے اکثر تجارتی ادارے زبانی معاہدوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اولاً اس کا رواج جاپانیوں کے باہمی تعلقات میں ہوا مگر اب باہر کے تاجر بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ جاپانی کے منھ سے بولے ہوئے لفظ پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ قانونی بندشوں سے آزادی کا یہ فائدہ ہے کہ کام تیزی سے ہوتا ہے اور غیر ضروری لفظی پابندیاں کارکردگی میں حارج نہیں بنتیں۔ جاپان کے اس مزاج نے اس کو باہمی اتحاد کا تحفہ دیا ہے۔ اور اتحاد بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ جاپان کی ترقی کا راز جاپانیات کے ایک ماہر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے: Never quarrelling amongst themselves, always making everything together. آپس میں کبھی نہ جھگڑنا، ہر کام ہمیشہ مل جل کر کرنا (ہندوستان ٹائمز 4 اپریل 1981ء)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page