Urdu book · راز حیات

امکانات

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی کوشش سے نفسیات کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر جن صلاحیتوں کا مالک ہے عام طور وہ ان کا صرف دس فی صدحصہ استعمال کرتا ہے۔ اس تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ولیم جیمس نے کہا_ ”جو کچھ ہمیں بننا چاہیے وہ کچھ ہم بننے کے لیے تیار نہیں“۔ ہم کو دوسروں سے شکایت ہے کہ وہ ہم کو ہمارا حصہ نہیں دیتے۔ مگر سب سے پہلے ہم کو خود اپنے آپ سے شکایت ہونی چاہیے کہ قدرت نے پیدائشی طور پر ہمارے لیے دنیا میں جو ترقیاں اور کامیابیاں مقدر کی تھیں، ہم اس کے مقابلہ میں ایک بہت کمتر زندگی پر قانع ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہر انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود اپنی طرف دیکھے۔ کیوں کہ انسان آپ ہی اپنا دوست بھی ہے اور آپ ہی اپنا دشمن بھی۔ آدمی کے باہر نہ اس کا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی اس کا دشمن۔ آدمی اپنی امکانیات کو استعمال کر کے کامیابی حاصل کرتا ہے اور جب وہ اپنی امکانیات کو استعمال نہ کرے تو اسی کا دوسرا نام ناکامی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ کوششوں کا استعمال صحیح رخ پر ہو۔ غلط رخ پر کوشش کرنا اپنی قوتوں کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ قدیم انسان کے نزدیک دولت مند بننے کی صورت صرف ایک تھی_ وہ یہ کہ لوہے کو سونا بنایا جائے_ وہ قیمتی چیز کے نام سے صرف سونے کو جانتا تھا۔ بے شمار لوگ ہزاروں سال تک لوہے کو سونا بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر ان کے حصہ میں بالآخر اس کے سوا اور کچھ نہ آیا کہ اپنے وقت اور پیسہ کو ضائع کریں اور پھر ایک دن حسرت کے ساتھ مر جائیں۔ مگر خدا کی دنیا میں ایک اور اس سے زیادہ بڑا امکان موجود تھا۔ اور وہ تھا لوہے کو مشین میں تبدیل کرنا۔ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں نے اس راز کو جانا اور اپنی محنتیں اس رخ پر لگا دیں۔ انھوں نے لوہے کو مشین میں تبدیل کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سونے اور چاندی سے بھی زیادہ بڑی مقدار میں دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page