Urdu book · راز حیات

امکانات

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کے بعد دوسرا پرل ہاربر امریکہ کی ایک بندرگاہ ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے زمانہ میں یہاں امریکی بحریہ کا زبردست فوجی اڈہ قائم تھا۔ 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے اچانک پرل ہاربر پر بمباری کر کے اس کو تباہ کر دیا۔ امریکہ کا جرم یہ تھا کہ وہ جاپان دشمن طاقتوں کے ہاتھ فوجی ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ مگر جاپان کے اس جنگی اقدام نے مسئلہ کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ اب امریکہ براہِ راست جنگ میں شریک ہو گیا۔ اس کے بعد امریکہ، برطانیہ اور روس نے مل کر وہ فوجی محاذ قائم کیا جو تاریخ میں اتحادی طاقتوں (Allied Powers) کے نام سے مشہور ہے۔ اس فوجی اتحاد کا سب سے زیادہ نقصان جاپانیوں کے حصہ میں آیا۔ امریکہ نے اگست 1945 میں جاپان کے دو صنعتی شہروں (ہیروشیما اور ناگاساکی) پر تاریخ کے پہلے ایٹم بم گرائے۔ جاپان کے دونوں صنعتی مراکز بالکل برباد ہو گئے اور اسی کے ساتھ جاپان کی فوجی طاقت بھی۔ پرل ہاربر پر بمباری کرنا بلاشبہ جاپان کی عظیم الشان فوجی غلطی تھی۔ اس اقدام نے غیر ضروری طور پر امریکہ کو جاپان کا دشمن بنا کر براہِ راست اس کے خلاف کھڑا کر دیا۔ مگر جاپان ایک زندہ قوم تھی۔ اس نے ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہیں کی۔ اس نے نئے حالات کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کر لیا۔ جاپان کی اس عقل مندی نے اس کے لیے ایک نیا عظیم تر امکان کھول دیا۔ جنگی میدان میں اقدام کے مواقع نہ پا کر اس نے تعلیم اور صنعت کے میدان میں اپنی جد و جہد شروع کر دی۔ سیاسی اور فوجی اعتبار سے اس نے امریکہ کی بالا دستی تسلیم کر لی اور دوسرے پرامن میدانوں میں اپنے آپ کو موڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 30 سال میں جاپان نے پہلے سے بھی زیادہ طاقت و حیثیت حاصل کر لی۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مبصر نے لکھا ہے: That is a queer culmination of Pearl Harbour, but history has many contrived corridors and perhaps Pearl Harbour was one of them.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page