Urdu book · راز حیات

ہار میں جیت

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے فوراً بعد جنرل میکار تھر (Douglas Macarthur) امریکی فوجوں کے ساتھ جاپان میں اُتر گئے۔ جاپان کے اوپر مکمل طور پر امریکا کا فوجی قبضہ ہو گیا۔ جاپان اگر چہ خالص ہتھیار کے اعتبار سے شکست کھا چکا تھا مگر جاپانیوں کے درمیان جنگی جنون بدستور باقی تھا۔ جاپانیوں کا جنگی جنون اس زمانہ میں اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنے جسم میں بم باندھ کر جہازوں کی چمنی میں کود جاتے۔ اب جنرل میکار تھر کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس جنگی جنون کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔ جنرل میکار تھر نے اس کا حل اس تدبیر میں تلاش کیا کہ جاپانیوں کے جذبہ کو جنگ سے ہٹا کر معاشی سرگرمیوں کی طرف پھیر دیا جائے۔ ایک امریکی مبصر اینتھونی لیوس (Anthony Lewis) نے لکھا ہے: When Japan surrendered, 40 years ago, Gen. Douglas Macarthur undertook not just to occupy but to remake the country. If he had been asked than what his most extravagant hope was. I think he might have said: to channel the drive of this aggressive people away from militarism and into economic ambition. جب جاپان نے 40 سال پہلے ہتھیار ڈالے تو جنرل میکار تھر نے نہ صرف جاپان پر فوجی قبضہ کر لیا بلکہ اسی کے ساتھ ان کی مہم یہ تھی کہ وہ ملک کی از سر نو تشکیل کریں۔ اگر اس وقت ان سے پوچھا جاتا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو میرا خیال ہے کہ وہ یہ کہتے کہ جاپان کے جارج عوام کے جوش کو جنگ کے بجائے اقتصادی حوصلوں کی طرف موڑ دینا۔ (ٹائمز آف انڈیا، 26 اگست 1985) اب جاپان کے لیے ایک صورت یہ تھی کہ وہ اپنے ذہن کو باقی رکھتا۔ اگر کھلے طور پر میدان جنگ میں لڑنے کے مواقع نہیں تھے تو خفیہ طریقہ پر امریکا کے خلاف اپنی مقابلہ آرائی کو جاری رکھتا۔ آخری درجہ میں وہ اس کام کو کر سکتا تھا جس کا نمونہ ہندوستان کے مسلمانوں میں نظر آ رہا ہے ۔ یعنی اپنے مفروضہ حریف کے خلاف الفاظ کی بے فائدہ جنگ جاری رکھنا۔ مگر جاپان نے فاتح کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے فوراً اپنے عمل کا رُخ بدل دیا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page