Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

آتی۔ یہاں ہر پچھڑے ہوئے کے لیے دوبارہ آگے بڑھنے کا امکان ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی زیادہ بڑی مقدار میں عمل کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ بربادی کے بعد بھی ایک انگریز عالم مسٹر آئن نیش (Ian Nish) جاپان گئے۔ انھوں نے وہاں گیارہ سال رہ کر جاپانی زبان سیکھی اور گہرائی کے ساتھ جاپانی قوم کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے مطالعہ اور تحقیق کے نتائج 238 صفحات کی ایک کتاب میں شائع کیا ہے جس کا نام ہے جاپان کی کہانی (The Story of Japan) مصنف لکھتے ہیں: جاپانی قوم کی زندگی کو جس چیز نے سب سے زیادہ گہرائی کے ساتھ متاثر کیا وہ سیاست نہیں تھی بلکہ کانتو کا عظیم زلزلہ تھا۔ یکم ستمبر 1923 کو زلزلے کے زبردست جھٹکوں نے مشرقی جاپان کو تہس نہس کر دیا جو کہ جاپان کا سب سے زیادہ آباد علاقہ تھا۔ دوسرا انسانی ساخت کا زلزلہ 1945 میں جاپان کی شکست تھی۔ جب کہ دو ایٹم بموں نے جاپان کے دواہنہائی بڑے شہروں کو ملبہ کا ڈھیر بنا دیا۔"زلزلہ" سے اگر تعمیر نو کا ذہن پیدا ہو تو زلزلہ ایک نئی ترقی کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس زلزلہ اگر صرف محرومی اور جھنجھلاہٹ کا احساس پیدا کرے تو اس کے بطن سے سیاسی چیخ و پکار وجود میں آتا ہے جو نتیجہ کے اعتبار سے اتنا بے معنی ہے کہ اس سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ کسی انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیز عمل کا جذبہ ہے۔ آدمی کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوجائے تو اس کے اندر کی تمام سوئی ہوئی قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ وہ زیادہ بہتر طور پر سوچتا ہے۔ زیادہ کامیاب منصوبہ بناتا ہے اور زیادہ محنت کے ساتھ اپنے کام کی تکمیل میں لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر عمل کا جذبہ نہ ابھرے وہ اس طرح سست پڑا رہتا ہے جیسے کوئی مشین غیر متحرک حالت میں خاموش پڑی ہو۔ اور تجربہ بتاتا ہے کہ اطمینان اور آسودگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page