Urdu book · راز حیات

بربادی کے بعد بھی

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

کے حالات عام طور پر آدمی کی قوتوں کو سلاتے ہیں، وہ اس کے اندر بیداری پیدا نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جب آدمی کی زندگی مشکلوں اور رکاوٹوں سے دو چار ہو تو اس کے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس کی صلاحیتیں اسی طرح جاگ اٹھتی ہیں جیسے کوئی آدمی بے خبر سو رہا ہو اور اس کے اوپر ایک پتھر گرپڑے۔ تاہم یہ فائدہ کسی کو اپنے آپ نہیں مل جاتا۔ ہر معاملہ میں ایک ابتدائی حصہ آدمی کو خود ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی آدمی کی زندگی میں کوئی ”بربادی“ کا واقعہ پیش آئے تو وہ اس کو دو امکانات کے درمیان کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ یا تو اس سے یہ سبق لے کہ اس کو از سر نو متحرک ہو کر اپنی نئی تعمیر کرنی ہے۔ یا اس سے مایوسی اور شکایت کی غذا لے کر سرد آہیں بھرتا رہے۔ ابتدائی مرحلہ میں آدمی دونوں میں سے جس رجحان کو اپناتا ہے اسی رخ پر اس کی پوری زندگی چل پڑتی ہے۔ اسی کے مطابق اس کی اندرونی صلاحیتیں اپنا عمل کرنے لگتی ہیں۔ جب بھی آدمی کی زندگی میں کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو حادثہ کو دیکھنے کے بجائے اپنے آپ کو دیکھنا چاہئے۔ مستقبل کے کسی بھی نتیجہ کا سارا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ آدمی حالات کے مقابلہ میں کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ تعمیر نو کا جذبہ پیدا ہو تو یہ مثبت ردعمل ہے جو لازماً کامیابی تک پہنچاتا ہے اور اگر احتجاج اور شکایت کا ذہن ابھرے تو یہ منفی ردعمل ہے جس کا آخری انجام مزید بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ تم غریب نہیں ، دولت مند ہو ”بابا پیسہ دے“ فقیر نے آواز لگائی۔ سننے والے نے دیکھا تو وہ ہاتھ پاؤں کا درست معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے کہا: تم کو پیسہ کیوں دیا جائے۔ فقیر بولا کہ میں غریب ہوں۔ آدمی نے کہا: نہیں تم غریب نہیں ہو۔ تم بہت دولت مند ہو۔ فقیر نے کہا: بابوجی مذاق نہ کیجئے ۔ میرے پاس دولت کہاں۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ میں تو بالکل غریب ہوں۔ آدمی نے کہا: اچھا تمھارے پاس جو کچھ ہے مجھے دے دو، میں اس کے بدلے تم کو پچاس ہزار روپے دیتا ہوں۔ فقیر نے اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page