Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ آدمی اگر اپنے جسم ودماغ کی صلاحیتوں کو بھر پور استعمال کرے تو وہ دنیا کی ہر کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی چیز اس کے لیے ناممکن نہیں۔ اگر آپ کے پاس ہاتھ ہے جس سے آپ پکڑیں اور پاؤں ہے جس سے آپ چلیں، آپ کے پاس آنکھ ہے جس سے آپ دیکھیں اور زبان ہے جس سے آپ بولیں تو گویا آپ کے پاس سب کچھ ہے۔ کیوں کہ ان کے ذریعہ سے دنیا کی تمام چیزیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کوئی چیز بھی ان کے دائرہ سے باہر نہیں۔ کمزوری نعمت ثابت ہوئی گاندھی جی اپنی کتاب تلاش حق (My Experiments with Truth) میں لکھتے ہیں کہ وہ پیدائشی طور پر شرمیلے تھے۔ ان کا یہ مزاج بہت عرصہ تک باقی رہا۔ جب وہ تعلیم کے لیے لندن میں تھے تو وہ ایک ویجیٹیریئن سوسائٹی کے ممبر بن گئے۔ ایک بار انھیں سوسائٹی کی میٹنگ میں تقریر کے لیے کہا گیا۔ وہ کھڑے ہوئے، مگر کچھ بول نہ سکے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اپنے خیالات کو کس طرح ظاہر کریں۔ بالآخر وہ شکریہ کے چند کلمات کہہ کر بیٹھ گئے۔ ایک اور موقع پر ان کو مدعو کیا گیا کہ وہ سبزی خوری کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر کریں۔ اس بار انھوں نے اپنے خیالات ایک کاغذ پر لکھ لیے۔ مگر جب وہ کھڑے ہوئے تو وہ اپنا لکھا ہوا بھی نہ پڑھ سکے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر ایک شخص نے مدد کی اور ان کی لکھی ہوئی تحریر کو پڑھ کر سنایا۔ گاندھی جی نے وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد بمبئی میں پریکٹس شروع کی۔ مگر یہاں بھی ان کا شرمیلا پن ان کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ پہلا کیس لے کر جب وہ حج کے سامنے کھڑے ہوئے تو حال یہ ہوا کہ ان کا دل بیٹھنے لگا اور وہ کچھ بول نہ سکے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے موکل سے کہا کہ میں تمھارے کیس کی وکالت نہیں کر سکتا۔ تم کوئی دوسرا وکیل تلاش کرلو۔ بظاہر یہ سب کمی کی باتیں ہیں۔ مگر گاندھی جی لکھتے ہیں کہ یہ کمیاں بعد کو میرے لیے بہت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page