Urdu book · راز حیات

بربادی کے بعد بھی

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

جھولی کندھے سے اتاری اور کہا: میرے پاس تو بس یہی ہے۔ اس کو آپ لے لیجیے۔ آدمی نے کہا: نہیں تمھارے پاس اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ تمھارے پاس دو پاؤں ہیں۔ ایک پاؤں تم مجھ کو دے دو اور مجھ سے دس ہزار روپے لے لو۔ فقیر نے دینے سے انکار کیا۔ اب آدمی نے کہا: اچھا تمھارے پاس دو ہاتھ ہیں۔ ایک ہاتھ تم مجھ کو دے دو اور مجھ سے 20 ہزار روپے لے لو۔ فقیر نے دوبارہ دینے سے انکار کیا۔ آدمی نے کہا: اچھا تمھارے پاس دو آنکھیں ہیں۔ ایک آنکھ تم مجھ کو دے دو اور مجھ سے 20 ہزار روپے لے لو۔ فقیر نے اب بھی دینے سے انکار کیا۔ آدمی نے کہا: دیکھو تمھارے پاس دو پاؤں ، دو ہاتھ اور دو آنکھیں ہیں۔ میں نے صرف ایک ایک کے دام لگائے تو پچاس ہزار روپے ہو گئے۔ اگر دونوں پاؤں ، دونوں ہاتھ اور دونوں آنکھوں کا دام لگایا جائے تو ان کی قیمت ایک لاکھ روپے ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو تمھارے پاس جسم ہے جس میں بے شمار چیزیں ہیں اس کی صرف تین چیزوں کا دام بھی کم سے کم ایک لاکھ روپیہ ہے۔ پھر تم غریب کیسے ہو۔ تم تو بہت بڑے دولت مند ہو۔ تم بھیک مانگنا چھوڑ دو اور اپنی اس قیمتی دولت کو استعمال کرو۔ تم سے زیادہ کامیاب دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عجیب صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ عام حالات میں اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ البتہ کوئی چیز نہ رہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسی قیمتی تھی۔ جیمز ٹامس دہلی کا ایک مشین آپریٹر ہے۔ اس کی عمر 24 سال ہے۔ بیماری کی وجہ سے اس کے دونوں گردے خراب ہو گئے۔ اس نے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے لیے زندگی کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ کسی شخص سے ایک گردہ بطور عطیہ حاصل کرے، گردہ ایک خالص قدرتی پیداوار ہے۔ کسی انسانی کارخانہ میں کھرب ہاکھرپ روپیہ خرچ کر کے بھی گردہ بنایا نہیں جا سکتا۔ تاہم یہ قیمتی گردہ اگر کوئی شخص بطور عطیہ دے دے تو ڈاکٹروں کی فیس اور سرجری کے اخراجات چھوڑنے کے بعد بھی جیمز ٹامس کو 45 ہزار روپے درکار تھے، تا کہ یہ گردہ اس کے جسم میں نصب کیا جا سکے (ٹائمس آف انڈیا 10 جنوری 1980)۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے پاس کچھ نہ ہو تب بھی اس کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے۔ یہ جسم اور یہ دماغ جو ہم کو ملا ہوا ہے، یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page