Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

بگڑتا۔ اگر میں نے یہ تدبیر کی ہوتی تو میں نقصان سے بچ جاتا۔ وغیرہ۔ اس قسم کے احساسات میں جینا اپنے وقت اور قوتوں کو ضائع کرنا ہے۔ گزرا ہوا موقع دوبارہ واپس نہیں آتا، پھر اس کا افسوس کیوں کیا جائے۔ مذکورہ ڈاکٹر کے الفاظ میں بہترین بات یہ ہے کہ ہر ایسے موقع پر آپ یہ کہیں کہ اگلی بار میں اس کام کو دوسرے ڈھنگ سے کروں گا: Next time I'll do it differently. جب آپ ایسا کریں گے تو آپ گزرے ہوئے معاملے کو بھول جائیں گے۔ آپ کی توجہ جو اس سے پہلے ماضی کی بے فائدہ یاد میں لگی ہوئی تھی، وہ مستقبل کے متعلق غور و فکر اور منصوبہ بندی میں لگ جائے گی (ریڈرز ڈائجسٹ ستمبر 1981) اس کا نقد فائدہ یہ حاصل ہو گا کہ آپ افسوس اور کڑھن میں اپنی قوتیں ضائع کرنے سے بچ جائیں گے۔ جو چیز اس سے پہلے آپ کے لیے صرف تلخ یاد بنی ہوئی تھی، وہ آپ کے لیے ایک قیمتی تجربہ کی حیثیت اختیار کرلے گی ، ایک ایسا تجربہ جس میں مستقبل کے لیے سبق ہے، جس میں آئندہ کے لیے نئی روشنی ہے۔ افسوس یا غم بیشتر حالات میں یا ماضی کے لیے ہوتے ہیں یا مستقبل کے لیے۔ آدمی یا تو کسی گزرے ہوئے نقصان کا افسوس کرتا رہتا ہے یا ایسے واقعہ کا غم جس کے متعلق اسے اندیشہ ہو کہ وہ آئندہ پیش آئے گا۔ مگر یہ دونوں ہی غیر ضروری ہیں۔ جو نقصان ہو چکا وہ ہو چکا۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ پھر اس کا غم کرنے سے کیا فائدہ۔ اور جس واقعہ کا اندیشہ ہے وہ بہر حال ایک امکانی چیز ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جس خطرہ کا اندیشہ کرے وہ عین اس کے اندیشہ کے مطابق پیش آجاۓ۔ ناکامی زینہ بن گئی اسپنسرس مدراس شہر کی ایک بہت مشہور دکان ہے۔ اک بار آگ نے اس دکان کو برباد کر دیا۔ مگر اس نے بہت جلد اپنی تجارت دوبارہ بحال کر لی۔ اس طرح کہ اس نے اپنی دکان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page