Urdu book · راز حیات

ناکامی زینہ بن گئی

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

سامنے ایک تختی لگا دیا جس پر لکھا ہوا تھا: یقین جانیے، ہماری دکان آج واحد دکان ہے جہاں صرف تازہ مال موجود ہے: یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی بربادی سے دوچار ہونے کے بعد اگر اپنی عقل کو نہ کھوئے تو وہ نہ صرف دوبارہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ اپنی ناکامی کو اپنے لیے نئی کامیابی کا زینہ بنا سکتا ہے۔ مدراس کی مذکورہ دکان آگ سے جل کر تباہ ہو گئی تھی۔ بظاہر یہ بربادی کا واقعہ تھا۔ مگر اس واقعہ کو دکاندار نے زینہ کے طور پر استعمال کیا۔ دکان کے آگ میں جل جانے کے معنی یہ ہیں کہ پچھلا سامان جو دکان میں تھا سب ختم ہو چکا ہے۔ اب دکاندار نے فورا سامان لا کر دکان میں رکھ دیا اور پھر خریدار کی اس نفسیات کو استعمال کیا کہ وہ ہمیشہ تازہ بنا ہوا مال پسند کرتا ہے۔ اس نے جب مذکورہ اعلان کیا تو عوام نے فورا اس کو صحیح سمجھ لیا۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ یہ دکان آگ میں جل کر تباہ ہو چکی ہے۔ انھوں نے یقین کر لیا کہ اس کا سب سامان بالکل نیا ہے۔ اور خریداری کے لیے ٹوٹ پڑے۔ گزرے ہوئے نقصان کو اس نے بہت جلد زیادہ بکری کے ذریعہ حاصل کر لیا۔ اس دنیا میں اس وقت بھی ایک نیا امکان چھپا ہوا موجود ہوتا ہے جب کہ آدمی کا اثاثہ جل کر راکھ ہو گیا ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی مایوس نہ ہو۔ بربادی سے دوچار ہونے کے بعد فوراً ہی وہ اپنی عقل کوئی راہ تلاش کرنے میں لگا دے۔ وہ پائے گا کہ جہاں اس کے لیے ایک امکان ختم ہوا تھا وہیں دوسرا زیادہ بہتر امکان اس کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں ایک تاریخ ختم ہوئی تھی وہیں اس کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page