Urdu book · روشن مستقبل

صبر کی طاقت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح استقبال کریں ، وہ ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں ۔ وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ عظیم تر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں ۔ جب ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر ظلم کرے ، اور مظلوم گروہ بھی اس کے جواب میں ظالمانہ کارروائی کرنے لگے تو دونوں گروہ اخلاقی اعتبار سے برابر ہو گئے ۔ ایسے دونوں گروہوں کو اللہ ان کی اپنی ذات کے حوالے کر دیتا ہے ۔ ان میں سے کسی کو بھی اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی ۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کو اپنے ظلم اور سرکشی کا نشانہ بنائے ، مگر مظلوم گروہ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اس پر صبر کر لے ، تو خدا صابر گروہ کے ساتھ ہو جاتا ہے ۔ وہ مظلوم گروہ کی مدد کر کے اس کو ظالم گروہ کے اوپر فاتح بنا دیتا ہے ۔ مظلوم گروہ کو یہ فائدہ تمام تر صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے ۔ صبر کوئی بے عملی کی حالت نہیں ، صبر سب سے بڑا عمل ہے ۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتے ہوئے جذبات کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ کی طرف پھیر دے۔ صبر کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ جو شخص صبر کرے وہ بے پناہ شخصیت کا مالک بن جاتا ہے۔ تمام قوانین فطرت اس کے حق میں متحرک ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے تحت وہ ایک ناقابل تسخیر ہستی بن جاتا ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائے ۔ وہ ظالم کی بدخواہی کے جواب میں اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا سکتا ہے ۔ وہ برے عمل کا جواب بھلے عمل سے دینے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صابر آدمی ظالم کے ظلم پر اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ہدایت کی دعا مانگتا ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اشتعال انگیزی کے وقت مشتعل ہو جائے اور عاجلانہ کارروائی میں اپنی طاقت کو ضائع کرے ۔ صبر آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے ۔ وہ آدمی کی خفیہ صلاحیتوں کو جگاتا ہے ۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کرتا ہے ۔ وہ آدمی کے اندر منصوبہ بند کام کرنے کا مزاج پیدا کرتا ہے ۔ صبر آدمی کو معمولی انسان کے درجے سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجہ میں پہنچا دیتا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page