Urdu book · روشن مستقبل

فتح باب

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

فتح باب ۱۳ نومبر ۱۹۹۰ء کا واقعہ ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ کچھ ہندو بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک مسلمان ان سے اسلام کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔ ہندوؤں کا کہنا تھا کہ تمہارا مذہب مار کاٹ کا مذہب ہے۔ مسلمان نے پوچھا کہ کیسے تم ایسا کہتے ہو۔ ہندو نے کہا کہ تم لوگ صبح ہی صبح اٹھ کر اپنی مسجدوں سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کی پکار بلند کرتے ہو۔ اس کا مطلب یہی تو ہے کہ اللہ کے نام پر کافروں کو مارو۔ اللہ کے لیے لوگوں کو قتل کرو۔ مسلمان نے کہا کہ یہ آپ بالکل الٹی بات کہہ رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ اللہ اکبر کہنے کے بعد مسلمان اپنی مسجدوں میں کیا کرتے ہیں۔ مسلمان اس کے بعد وہ کام کرتے ہیں جس کورکوع اور سجدہ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جھکتے ہیں اور اپنا سر زمین پر رکھ دیتے ہیں۔ پھر جب وہ نماز ختم کرتے ہیں تو کہتے ہیں: السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ یعنی تمام لوگوں پر سلامتی اور رحمت ہو۔ یہ مسلمان بظاہر کوئی عالم نہ تھا۔ اور نہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی یونیورسٹی کا پڑھا ہوا ہے۔ یہ بات اس نے فطرت کے زور پر کہی نہ کہ علم کے زور پر۔ یہ بات دراصل معلم فطرت“ نے اس کو بتائی تھی۔ جھوٹے رہنا جہاں گمراہ کرنے کے لیے موجود نہ ہوں، وہاں فطرت خداوندی انسان کی رہنما بن جاتی ہے۔ اور بلاشبہ فطرت خداوندی سے زیادہ بہتر کوئی معلم انسان کے لیے نہیں۔ میں نے مسلمان کی مذکورہ باتیں سنیں تو ایسا محسوس ہوا گویا میں اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آگیا ہوں۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ موجودہ حالات نے ملت اسلام کے لیے تاریخ کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ موجودہ حالات خود اپنی اندرونی منطق کے تحت مسلمانوں کو اسلام کا سچا مبلغ بنا رہے ہیں۔ یہ حالات خود بخود مسلمانوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ اس اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کریں جو سچا اسلام ہے اور اسی کے ساتھ وہ موجودہ حالات میں ان کے لیے ایک ڈھال کا کام کرتا ہے۔ یعنی وہ اسلام جو دین فطرت ہے، جو انسان کے روحانی تقاضوں کا جواب ہے، جس میں محبت اور تواضع کی تعلیم ہے۔ جس کے اندر امن اور رحمت کا پیغام ہے۔ جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارے۔ وہ سورج کی طرح دنیا میں رہے جو ہر ایک کو اپنی روشنی پہنچاتا ہے، وہ پھول کی طرح معاملہ کرے جو اپنے دشمن کو بھی رنگ اور خوشبو کا تحفہ دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page