Urdu book · روشن مستقبل

فتح باب

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہن۔ دار السلام اور دار الحرب کی عالمی تقسیم کے بعد عملی طور پر مسلمانوں کے اندر یہی فکر ابھر سکتا تھا اور یہی فکر ابھرا کہ مسلمان کے لیے کرنے کا کام صرف دو ہے ـــــــــــ حاصل شدہ حصے زمین پر حکومت کرنا۔ اور زمین کا جو حصہ ابھی حاصل نہیں ہوا اس کو کولڈ کر اپنے قبضے میں لانا تاکہ اس پر حکومت کی جا سکے۔ مسلمانوں کا یہی غیر صحیح ذہن تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے تاتاری قبائل کو مدعو سمجھنے کے بجائے انہیں اپنا حریف سمجھا۔ چنگیز خاں کے وفد کا احترام کرنے کے بجائے انہوں نے ان کی تحقیر کی۔ خوارزم شاہ کے حکم کے تحت تاتاری وفد کے اموال چھین لیے گئے اور انہیں قتل کر دیا گیا (البدایہ والنہایہ ۱۳/ ۸۳) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور تاتاریوں کے درمیان داعی۔ مدعو کا رشتہ قائم نہ ہو سکا۔ اس کے بجائے ان کے درمیان حریف اور دشمن کا رشتہ قائم ہو گیا۔ چنگیز خاں کے دل میں ابتدا مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ تھا۔ مگر مذکورہ واقعہ کے بعد اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف غصہ اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ تاتاری لشکر اپنی تمام وحشت و بربریت کے ساتھ عالم اسلام پر ٹوٹ پڑا۔ ان کا غصہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ انھوں نے عالم اسلام کو اپنے قدموں کے نیچے پامال کر دیا۔ اس دور میں جو عملی خرابی پیدا ہوئی، اس کو میں ایک مثال کے ذریعہ واضح کروں گا۔ ساتویں صدی ہجری میں تاتاری جب عباسی خلافت کو زیر و زبر کر چکے اور نتیجہ تاتاری احساس غلبہ اور مسلمان احساس مغلوبیت سے دوچار ہو گئے، اس زمانہ کا واقعہ ہے۔ ایک تاتاری نوجوان تغلق تیمور ایرانی علاقہ میں شکار کھیل رہا تھا۔ اس کی ملاقات ایک ایرانی مسلمان سے ہوئی۔ تاتاری نوجوان گھوڑے پر سوار تھا۔ اس نے احساس برتری کے تحت اپنے کتے کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ تم مسلمانوں سے تو میرا یہ کتا اچھا ہے۔ اگر یہ مسلمانوں کے غلبہ اور حکمرانی کا دور ہوتا تو مذکورہ مسلمان اس بات کو سن کر فورا اپنی تلوار نکالتا اور تاتاری نوجوان کی گردن مار کر کہتا کہ اب بتاؤ میں اچھا ہوں یا تمہارا کتا اچھا ہے۔ مگر اس وقت مسلمان احساس مغلوبیت سے دوچار تھے۔ حالات نے انہیں شکستگی کے مقام پر پہنچا دیا تھا۔ ان کے دلوں میں کبر اور سرکشی کے بجائے تواضع اور درد مندی کے جذبات بھرے ہوئے تھے چنانچہ تاتاری نوجوان کا جملہ سن کر مسلمان کی زبان سے نکلا؟ اگر ہم کو سچا دین نہ ملتا تو یقیناً ہم کتے سے زیادہ برے ہوتے۔" مسلمان کے اس پر سوز جملہ نے تاتاری نوجوان کو تڑپا دیا۔ اس کے بعد وہ سچے دین کی تحقیق میں لگ گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page