فتح باب
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام تھا، جو انسانی فطرت کے ساتھ پوری مطابقت رکھتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام دوبارہ سیلاب کی طرح پھیلنے لگا۔ قومیں کی قومیں اسلام میں داخل ہوگئیں۔ نئے خون کی اس آمیزش کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ اسلام کی ایک طاقت در تاریخ بنائی جو صدیوں تک جاری رہی۔ عباسی دور کے اسلام کی ایک فکری مثال لیجیے۔ ہماری موجودہ فقہ زیادہ تر اسی عباسی دور میں بنی ہے۔ عباسی دور مسلمانوں کے لیے فتح و غلبہ کا دور تھا۔ اس کے زیر اثر مسلمانوں میں حاکمانہ نفسیات پیدا ہوگئی۔ مسلمان اپنے آپ کو ”داعی“ کے بجائے ”فاتح“ سمجھنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فقہ میں کئی ایسے مسائل داخل ہوگئے جو محض اس وقت کے سیاسی حالات کا نتیجہ تھے نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیم کا نتیجہ۔ مثلاً ہمارے فقہار نے پوری دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ ایک حصہ کو انھوں نے دارالاسلام کہا اور دوسرے حصہ کو دارالحرب۔ یہ تقسیم یقینی طور پر زمانی حالات کا نتیجہ تھی۔ یہ فقہ اگر عہد نبوت میں بنتی جبکہ ایک طرف دعوت الی اللہ کا کام جاری تھا۔ دوسری طرف مدینہ میں اسلام کا با اختیار مرکز قائم ہو رہا تھا۔ تیسری طرف جارح اور حملہ آور قبائل سے اسلام کی دفاعی جنگ ہو رہی تھی۔ تو نقشہ مختلف ہوتا۔ ان حالات میں فقہار اگر عالم انسانی کی تقسیم کرتے تو وہ اس کو دو کے بجائے تین حصوں میں بانٹتے دار الدعوة، دار الاسلام، دار الحرب (دار الحرب فقہار کے معروف معنی میں نہیں، بلکہ اس معنی میں کہ وہ ملک جس سے جارحیت کی بنا پر مسلمانوں کو دفاعی جنگ لڑانی پڑے اور اس طرح مسلمان ان سے برسر جنگ ہوگئے ہوں) مگر زمانی حالات کی بنا پر فقہار کی تقسیم میں دار الدعوة حذف ہوگیا، حالانکہ وہ اسلام کا اہم ترین حصہ تھا۔ حقیقی اسلام جس کا نمونہ رسول اور اصحاب رسول نے قائم کیا ہے، اس کے مطابق مسلمانوں کا مزاج بنے تو وہ یہ ہوگا کہ مسلمان دنیا کی قوموں کو اسلام کے پیام رحمت کا مخاطب بنائیں۔ جہاں مسلمانوں کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہو وہاں کی عملی زندگی کا نقشہ اسلامی احکام کی بنیاد پر قائم کریں۔ اور اگر کوئی قوم ان کے خلاف جارحیت کرے تو اس سے مقابلہ کر کے اسلام کا دفاع کریں مگر مذکورہ فقہی تقسیم میں دعوت کا پہلو سرے سے حذف ہوگیا۔ اس میں صرف دوسرا اور تیسرا پہلو باقی رہا، اور وہ بھی نا تمام صورت میں۔ فقہار کی تقسیم کے مطابق ، اُس وقت کے مسلمانوں میں جو ذہن بنا وہ حاکمانہ ذہن تھا نہ کہ داعیانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader