بے بنیاد خوف
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
بے بنیاد خوف متحدہ عرب امارات سے ایک عربی مجلہ منار الاسلام کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ اس نے مارچ ۱۹۸۶ میں ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں ایک خصوصی رپورٹ چھاپی تھی ۔ اس کا عنوان تھا : القضاء علی المسلمین فی الھند (ہندوستان میں مسلمانوں کا خاتمہ)، اس رپورٹ میں ہندوستان کی بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں کی خفیہ سازشوں کا انکشاف کیا گیا تھا جو رپورٹ کے مطابق ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ۱۹۳۹ سے سرگرم ہیں۔ رپورٹ میں دکھایا گیا تھا کہ ایک ہندو فرقہ پرست تنظیم نے موجودہ صدی کی چوتھی دہائی میں اپنے کارکنوں پر مشتمل ایک خفیہ وفد اسپین روانہ کیا تھا ۔ تاکہ وہاں جاکر وہ گہرائی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ وہاں کے عیسائیوں نے کس طرح اسپین کی سرزمین سے مسلمانوں کا خاتمہ کیا۔ اور پھر ہندوستان میں بھی اسپین کی اسی قدیم تاریخ کو دہرایا جا سکے۔ حیدر آباد کے ماہنامہ رہگذر (مئی ، ۱۹۸۷) میں ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا : ہندوستان میں مسلمانوں کا صفایا کس طرح کیا جائے گا ، ہندو نازی ہسپانیہ کے نقش قدم پر۔ صاحب مضمون نے لکھا تھا کہ : ”ہندوستان کے ہندو نازیوں نے اس صدی کے تیسرے اور چوتھے دہے میں اس مضمون کا گہرامطالعہ کیا کہ کس طرح اسلام کو ہسپانیہ سے نکال باہر کیا گیا۔ انہوں نے اس کا مطالعہ خاص طور پر کیا تاکہ اس کی نقل ہندوستان میں بھی کی جائے۔ آج ہندو نازی حکومت کے اندر اور باہر ہر جگہ باقاعدگی سے ہسپانوی طریقے اختیار کر رہے ہیں۔“ مضمون میں دکھایا گیا تھا کہ ہسپانیہ کی منظم عیسائی جماعتوں اور فرڈینینڈ کی حکومت نے وہاں سے مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے نو طریقے اختیار کئے تھے۔ اب یہی نو طریقے ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں۔ یہ بات پچھل نصف صدی سے مختلف شکلوں میں کہی جارہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے دینی اور علمی حلقوں میں اس کا بار بار چرچا کیا گیا ہے۔ مسلم خطیبوں نے اپنی تقریروں میں اور اصحاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader