بے بنیاد خوف
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
قلم نے اپنی تحریروں میں مسلمانوں کو اس مفروضہ خطرہ سے ہوشیار کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ ملی تشخص کی حفاظت اور نئی نسل کے مستقبل کے تحفظ کی تحریکیں زیادہ تر اسی مخصوص ذہن کی پیداوار ہیں۔ یہ سراسر بے بنیاد خوف ہے جو لغویت کی حد تک بے معنی ہے۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسے کسی دیہاتی سے ایک شخص نے کہا کہ تمہارا کان کوالے گیا۔ وہ دیہاتی آدمی کوے کے پیچھے دوڑنے لگا۔ اس نے اپنے کان پر ہاتھ رکھ کر یہ دیکھنے کی کوشش نہ کی کہ اس کا کان بدستور اس کے سر پر موجود ہے۔ اسپین کا مذکورہ واقعہ اب سے پانچ سو سال پہلے پیش آیا۔ وہ زمانہ آج کے دور سے سراسر مختلف تھا۔ اس زمانہ میں بادشاہ کی زبان قانون ہوا کرتی تھی۔ اخبارات اور ریڈیو موجود نہ تھے جو کسی مقامی خبر کو عالمی سطح پر پھیلا سکیں۔ ایجنسی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ جیسے ادارے موجود نہ تھے جو ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کریں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس وقت عالمی حالات کا وہ دباؤ موجود نہ تھا جو آج ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے پانچ سو سال کے اندر دنیا کے حالات اتنے زیادہ بدل چکے ہیں کہ اب یہ بالکل ناممکن ہو گیا ہے کہ کوئی بھی طاقت ، خواہ وہ سپر پاور ہی کیوں نہ ہو، کسی انسانی مجموعہ کے خلاف اسپین جیسی تاریخ کو دہرائے۔ تاہم تھوڑی دیر کے لئے ان تمام ناممکنات کو ممکن فرض کر لیجئے ۔ اور متعلقہ اعداد و شمار کی روشنی میں یہ حساب لگائیے کہ بالفرض اگر موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ وہ المناک تاریخ دہرائی جائے جو اسپین میں قدیم مسیحی حکمرانوں نے دہرائی تھی تو اس تاریخی عمل کو اپنی آخری حد تک پہنچانے کے لئے کتنا عرصہ درکار ہوگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسپین میں مسلمان ۱۲۷۶ء میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کی حکومت ۷۸۰ سال تک باقی رہی۔ زوال کا شکار ہونے کے بعد ، اسپینی مسلمانوں کی سیاسی قوت کا آخری مرکز غرناطہ تھا۔ جو ۱۴۹۲ء میں ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ۱۴۹۲ء میں جب آخری مسلم سلطان نے مسیحی حکمران کے حق میں دست برداری لکھ دی اور غرناطہ سے روتا ہوارخصت ہوا، اس کے بعد چرچ اور حکومت کے منصوبے کے تحت اسپین سے مسلمانوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader