بے بنیاد خوف
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
ختم کرنے کی مہم شروع کر دی گئی۔ مگر ظلم اور سفاکی کے تمام طریقوں کو اختیار کرنے کے باوجود، اس مہم کی تکمیل میں ۱۲۰ سال لگ گئے۔ مسلمانوں کا آخری قافلہ ۱۶۱۴ء میں اسپین سے نکل سکا۔ اب فرض کیجئے کہ ہندوستان میں قدیم اسپین کی تاریخ دہرائی جاتی ہے، اور یہ بھی فرض کر لیجئے کہ یہ عمل کسی بھی اندرونی یا بیرونی مداخلت کے بغیر بلا روک ٹوک مسلسل جاری رہتا ہے ۔ تمام خلاف قیاس باتوں کو فرض کرنے کے بعد جو صورت حال پیش آئے گی، وہ تاریخی معلومات کے مطابق یہ ہوگی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) نے اپنے آرٹیکل اسپین کی تاریخ (History of Spain) میں بتایا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کے وقت اسپین کے باشندوں کی کل تعداد اچھتیس چالیس لاکھ تھی۔ جو عرب مسلمان اسپین میں داخل ہوئے، ان کی تعداد تقریباً پچاس ہزار تھی۔ اس تعداد میں دو طریقے سے اضافہ ہوا۔ ایک، توالد و تناسل کے ذریعہ۔ اور دوسرا، ان عیسائیوں کی شکل میں جو اسلام قبول کر کے مسلمانوں کی جماعت میں داخل ہو گئے ۔ اس طرح آخری دور میں اسپین کے پانچ بڑے شہروں میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ ستاسی ہزار (387,000) تھی (419-17-EB)۔ حساب کی آسانی کے لئے اسپین سے مسلمانوں کے خاتمہ کی مدت کو ایک سو سال مان لیجئے ۔ اور اسپینی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کر کے اس کو پانچ لاکھ فرض کر لیجئے ۔ اب دیکھئے کہ اسپین کی آزمودہ تدبیر کو اگر ہندوستان میں اختیار کیا جائے تو یہاں کے ۲۰ کروڑ مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے کتنی زیادہ مدت درکار ہوگی۔ علم الحساب بتاتا ہے کہ خاتمہ نسل کے اس عمل کے پورا ہونے میں چالیس ہزار سال لگ جائیں گے ۔ ایک سو سال میں پانچ لاکھ انسانوں کو ہلاک کرنے کی رفتار سے جو مدت قرار پاتی ہے وہ یہی ہے۔ واضح ہو کہ خاطر ترسنس کے لئے ۴۰ ہزار سال کی یہ مدت بھی اس وقت ہے جب کہ اس درمیان میں کوئی بھی ناموافق صورت حال پیش نہ آئے۔ مثلاً توالد و تناسل کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہو۔ ہندو اپنی موجودہ طاقت کو مسلسل چالیس ہزار سال تک برقرار رکھیں ۔ کوئی عالمی واقعہ اس رفتار میں خلل نہ ڈالے۔ ہندوؤں کے ساتھ وہ واقعہ نہ ہو جو تاتاری ظالموں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader