Urdu book · روشن مستقبل

ہندوستان کدھر

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کدھر ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ کو ایک ایسا دھماکہ خیز واقعہ ہوا جو غالباً ہندوستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ وہ شہر جس کا نام ہند و بزرگوں نے ایودھیا رکھا تھا ، یعنی وہ مقام جہاں تشد د نہ ہو۔ وہاں ہندو انتہا پسندوں کی ایک بھیڑ خلاف قانون طور پر جمع ہوئی۔ اس نے تشد د کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کے اطراف کی پختہ چہار دیواری کو توڑ دیا۔ مسجد کے ایک گنبد کو نقصان پہنچایا پھر وہ اس کے اوپر چڑھ گئے اور اس کے تینوں گنبدوں پر اپنا بھگوا جھنڈا لہرا دیا۔ اس لا قانونیت کو روکنے کے لئے پولیس نے گولی چلائی جس میں ۲۵ سے زیادہ آدمی ہلاک ہو گئے۔ ایودھیا میں مجنونا نہ تشدد کا یہ مظاہرہ اس وقت کیا گیا جب کہ بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کا قضیہ ملکی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس بنا پر حکومت نے اور ملک کے تمام منصف مزاج لوگوں نے بار بار یہ اپیل کی تھی کہ ہندو انتہا پسند عدالت کا احترام کرتے ہوئے اس کے فیصلے کا انتظار کریں۔ عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے بطور خود کوئی کارروائی نہ کریں۔ مگر تمام اپیلوں کو نظر انداز کر کے وہ اپنے گھروں سے نکلے تاکہ ایودھیا میں داخل ہو کر یودھ کریں اور پھر پورے ملک میں نفرت اور تشدد کی لہر پھیلا دیں۔ یہ واقعہ ہندوستان کی رواداری کے اس تصور کے سراسر خلاف ہے جو ہزاروں سال سے اس ملک میں چلی آرہی ہے اور جس کو اب تک ہندوستان کا پر فخر سرمایہ سمجھا جارہا تھا۔ یوپی اور مرکزی حکومت نے چالیس کروڑ روپے کے خرچ سے اس کا انتظام کیا تھا کہ وہ رواداری کی اس قدیم روایت کو بچا سکیں ۔ مگر مجنونانہ سیلاب کے آگے قانون اور ایڈمنسٹریشن کے بند بھی ٹوٹ گئے ۔ کار سیوکوں نے اپنی حد تک تخریب کاری میں کمی نہیں دکھائی ۔ اس واقعہ کی رپورٹ کافی تفصیل کے ساتھ اخباروں میں آچکی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۳۱ اکتوبر ) نے بالکل درست طور پر لکھا ہے کہ ہندو فرقہ کی زیادہ بڑی تعداد کبھی اس سے اتفاق نہیں کرے گی ۔ بلکہ ہندوؤں کی نہایت عظیم اکثریت کے لئے یہ واقعہ سخت پریشانی حتی کہ شرم کا باعث ہوگا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page