Urdu book · روشن مستقبل

ہندوستان کدھر

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت کمزور ہوگئی۔ اور آخر کار ، ۱۸۵۱ میں وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔ اسی طرح ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کہتے ہیں کہ انگریزوں نے ہمارے اوپر ظلم کیا۔ اس سے قطع نظر کہ ظلم کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ دوبارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انگریزوں کو اپنے ”ظلم“ سے کیا ملا۔ ان کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ ملک کے اندر ان کے اقتدار کی جڑیں اکھڑ گئیں۔ اور ۱۹۴۷ میں آخری طور پر ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔ ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کہتے ہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد کانگریس پارٹی کی جو حکومت بنی، اس کی پالیسی اقلیت کو خوش کرنے (appeasement) کی تھی۔ چنانچہ وہ مسلسل ہندوؤں کے اوپر ظلم کرتی رہی۔ اس سے قطع نظر کہ ظلم کا یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس کو اس ”ظلم“ سے کیا ملا۔ اس کو صرف یہ ملاکہ وہ کمزور ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ۱۹۸۸ کے الیکشن نے اس کے حق میں اقتدار سے بے دخلی کا فیصلہ کر دیا۔ ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں نے دوبارہ ظلم کا طریقہ اختیار کیا ہے ، وہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح ظلم کے راستہ پر چل رہے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ انتہا پسند لیڈر اپنے لئے کیا پسند کر رہے ہیں۔ کیا وہ دوبارہ اسی تباہی کی سیٹ پر بیٹھنا چاہتے ہیں جس کو ان کے کہنے کے مطابق ، مغلوں اور انگریزوں اور کانگریسیوں نے خالی کیا ہے۔ اگر انھوں نے اپنے لئے اسی راستہ کا انتخاب کیا ہے تو کیا انھیں معلوم نہیں کہ قدرت کا قانون سب کے لئے یکساں ہے۔ وہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا ۔ جس ظلم نے پچھلے حکمرانوں کو پیچھے دھکیل دیا ، وہی ظلم نئے حکمرانوں کے ساتھ کیا اس کے سوا کوئی اور سلوک کرے گا جو وہ پچھلے حکمرانوں کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ پھر یہ انتہا پسند لوگ اپنے لئے کس انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں کو ممکن ہے کہ اپنی منفی سیاست کا یہ سیاسی فائدہ ملے کہ وہ ووٹروں کی ایک تعداد کی نظر میں ان کے قومی ہیرو بن جائیں۔ اس طرح ممکن ہے کہ وہ اگلا ملکی الیکشن جیت لیں اور حکومت کی کرسیوں پر اپنے آپ کو پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں مگر جتنا امکان اس بات کا ہے، اس سے زیادہ امکان اس کا ہے کہ ان کی موجودہ مفسدانہ کارروائیوں کی بنا پر قدرت کا قانون ان کے خلاف حرکت میں آجائے۔ اس کے بعد وہ ظالموں کے خانہ میں لکھ دئے جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page