ہندوستان کدھر
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
سامنے آتے ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ یہ لیڈر اپنی پالیسی میں کامیاب ہیں۔ ان کی تباہ کن پالیسی نے اگر چہ ملک اور قوم کو بر بادی کے آخری کنارے سے پر پہنچا دیا ہے، تاہم یہ لیڈر خود اس قابل ضرور ہو گئے ہیں کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، اپنی سیاسی فتح کی خوشی کا جشن منا سکیں ۔ پچھلے چند سالوں میں ہندوستان میں مذہب کے نام پر سیاست کا جو تخریبی کھیل کھیلا گیا ہے ، اس میں لیڈر لوگ جیت گئے مگر ملک ہار گیا۔ لیڈروں نے اپنا شاندار قلعہ ضرور کھڑا کر لیا ہے ، مگر ان کا یہ سیاسی قلعہ صرف ملک کے کھنڈر پر بن کر کھڑا ہوا ہے۔ ہندوستان کا ضمیر اس المناک حادثہ پر چیخ اٹھا ہے۔ بجاطور پر لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ تشدد دانہ حملہ “ بابری مسجد “ پر نہ تھا بلکہ خود ہندو دھرم کی اپنی مقدس روایات پر تھا۔ چنانچہ ملک کے بے شمار لوگوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعہ اس کی مذمت کی اور اس کے بارے میں اپنے درد و کرب کا اظہار کیا۔ ہندوؤں کی کم از کم ۵۷ فی صد تعداد نے اس کو برا بتایا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ”ٹائمس آف انڈیا“ (۳۱ اکتوبر ۱۹۹۰ ) نے اپنے صفحہ اول پر ایک ایڈیٹوریل شایع کیا ہے۔ اس غیر معمولی ایڈیٹوریل بعنوان مضطرب ہندوستان (Anguished India) میں اس نے لکھا ہے کہ : The BJP and the VHP clearly failed to realise that whipping up atavistic passions for political gain would give them at best a pyrrhic victory (p.1) بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پر شد واضح طور پر سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ سیاسی مقصد کے لئے پیشتینی جذبات کو بھڑکاکر وہ زیادہ سے زیادہ جو چیز پائیں گے وہ ان کے لئے صرف ایک تباہ و بر باد فتح ہوگی ۔ تلخ حقیقت ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈر کیا کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مغل دور میں ہمارے اوپر ظلم کیا گیا ہے ۔ اب ہم اس کا انتقام لیں گے۔ اس سے قطع نظر ظلم کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط ۔ سوال یہ ہے کہ اگر مغل حکمرانوں نے ظلم کیا تو ان کو اپنے ظلم “ سے کیا ملا۔ اس کا نتیجہ جو ان کے حصہ میں آیا وہ صرف یہ تھا کہ ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader