ہندوستان کدھر
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
مایوس کر رہا ہوں جو مجھ سے کوئی مثبت تجویز سننے کے امیدوار ہوں گے۔ مستقبل کے بارہ میں میرا ذہن بھی اتنا ہی منتشر ہے جتنا کسی دوسرے شخص کا : حل کیا ہے اس معاملہ میں سوچنے کا ایک طریقہ خالص فرقہ وارانہ ہے۔ یعنی ہندو مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرائیں اور مسلمان ہندوؤں کا قصور ثابت کریں۔ یہ طریقہ صرف متعصبانہ ذہنوں کو اپیل کر سکتا ہے ، عام انسان اس کو کوئی اہمیت نہیں دے سکتا۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو منطقی انصاف“ کہا جا سکتا ہے۔ یعنی معاملہ کو بالکل منطقی انداز میں دیکھ کر یہ طے کرنا کہ کس کی کتنی غلطی ہے اور کون کتنا قصوروار ہے۔ تمام سنجیدہ لوگ اسی انداز میں لکھ اور بول رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مسٹر موہن چراغی نے لکھا ہے: ”میری طرح کروڑوں ہندو اپنے ہم مذہب جنونی لوگوں کے دیوانہ پن سے گردن جھکانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کیا اتنے بڑے ملک میں جہاں لاکھوں مندر اور تیر تھ استھان ہیں، ایک اور مندر نہ بننے سے ہندو دھرم کا ناش ہو جاتا۔ قصور صرف ہندو فرقہ پرستوں کا نہیں ہے، مجرم وہ مسلمان لیڈر بھی ہیں جنھوں نے مسلمانوں کی غربت ، مفلسی، بیکاری اور مایوسی کا فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کے لئے بابری مسجد کو ہندوستان میں اسلام کی علامت قرار دے کر ہندو فرقہ پرستی کو پنپنے کا موقع دیا ۔ کبھی یوم جمہوریہ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کر کے، کبھی لانگ مارچ کا نعرہ بلند کر کے اور کبھی آدم فوج بنانے کا اعلان کر کے، و شو ہندو پریشد کے زندہ رہنے کا سامان کیا۔ مجرم تو وہ سیاست دالاں اور حاکم بھی ہیں جو رام جنم بھومی۔ بابری مسجد کے ڈھانچہ پر سیاسی محل کھڑے کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں“ (قومی آواز ۲ نومبر (۱۹۹۰) خالص منطقی اعتبار سے یہ بات صد فی صد درست ہے۔ مگر اپنی ساری درستگی کے باوجود یہ اصل مسئلہ کا حل نہیں۔ پیچیدہ اجتماعی مسائل میں اس قسم کا منطقی انصاف کبھی واقعہ نہیں بنتا۔ یہ انداز نظری اعتبار سے جتنا صحیح ہے، عمل اعتبار سے وہ اتنا ہی غیر مفید ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader