ہندوستان کدھر
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے پیچیدہ جھگڑوں کا عملی حل صرف یہ ہے کہ کوئی ایک فریق تنہا رسک لینے پر آمادہ ہوجائے ، وہ تنہا ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے معاملہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے۔ جب دوطرفہ بنیاد پر مسئلہ کو حل نہ کیا جاسکتا ہو تو اس کے بعد مسئلہ کو حل کرنے کی ایک ہی قابلِ عمل صورت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کو یک طرفہ بنیاد پر حل کیا جائے۔ ایسی حالت میں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔ وہ ملک کی ترقی کے لئے اور نتیجہ خود اپنی ترقی کے لئے ، یہ قربانی دیں کہ وہ یک طرفہ طور پر اپنے اندر سے وقار کی مذکورہ نفسیات کو ختم کر دیں۔ قرآن کے الفاظ میں وہ ، کلمۂ جاہلیت کے مقابلہ میں کلمۂ تقویٰ کا ثبوت دیں (الفتح ۲۶) موجودہ حالات میں اس مسئلہ کا یہی واحد ممکن حل ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کو یا تو نظر انداز کر دیں یا اسی محدود دائرہ میں رکھ کر اس کو حل کرنے کی کوشش کریں جس محدود دائرہ میں وہ مسئلہ ابتداً پیدا ہوا تھا۔ مسلمان کسی بھی حال میں ہرگز ایسا نہ کریں کہ اس کو پوری ملت کے وقار کا سوال بنا دیں۔ یہ طریقہ مسلمانوں کے لئے یک طرفہ قربانی کے ہم معنیٰ ہوگا۔ مگر جس دن مسلمانوں نے یہ قربانی دے دی ، اسی دن ملک میں ترقی کا نیا سفر شروع ہو جائے گا۔ اور جو سفر شروع ہو جائے وہ آخر کار اپنی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔ نزاعی مسئلہ کے حل کا یہی وہ یک طرفہ طریقہ ہے جس کا مظاہرہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم حدبیہ اصول _______ حدیبیہ (۶۲۸ء) کے موقع پر کیا تھا۔ اس اصول کو ایک لفظ میں (Hudaibiya principle) کہا جاسکتا ہے۔ اس نازک موقع پر اگر مسلمان اس اصول کا مظاہرہ کریں تو وہ نہ صرف ملک کورہنمائی دیں گے ، نہ صرف اپنا ملی مسئلہ حل کریں گے بلکہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کے ایک قیمتی اصول کی شہادت دیں گے۔ اور بلاشبہ اسلام کی شہادت سے زیادہ بڑا عمل اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader