Urdu book · روشن مستقبل

ہندوستان کدھر

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اس کے مقابلے میں بہت ہلکا ہے جو مستقبل میں ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ میرا یقین نہیں ہے کہ ملک میں آئندہ کوئی ایسی چیز ظاہر ہونے والی ہے جس کو معقول سیاسی نظام کہا جا سکے۔ مسلم مسئلہ ہندوؤں کی اس ناکامی کا صرف ایک اظہار ہے کہ وہ ملک میں ایسا سیاسی نظام قائم نہ کر سکے جو ان کی اہلیت اور ملکی ضرورتوں کے مطابق ہو (صفحہ ۲۶ - ۲۷) مسٹر گری لال جین نے جو بات یہاں کہی وہ بے حد قابل غور ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو سماج کی بنیاد چار ورن (caste system) پر ہے۔ کاسٹ سسٹم ہندوازم کا لازمی جز ہے ۔ ہندوازم کی نفی کی قیمت پر ہی تقسیم انسانیت کے اس اصول کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ ہندوازم کو مانتے ہوئے اس اصول کا انکار ممکن نہیں۔ کیوں کہ یہ اصول ہندوازم کی مقدس کتابوں میں واضح طور پر درج ہے۔ مثال کے طور پر رگ وید میں سماج کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا نیچا اور اونچا ہونا ہے۔ اس کے مطابق برہمن، کشتری، وش اور شودر، بالترتیب خدا کے منہ ، بازو ، ران اور پاؤں سے پیدا ہوئے ہیں۔ برہمن کا کام مذہبی رسوم ادا کرنا ہے، کشتری کا کام فوجی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ وش کا کام زراعت کرنا اور شودر کا کام خدمت کرنا ہے۔ (361/EB-X) ہندو سماج میں یہ تصور کتنی گہرائی کے ساتھ جما ہوا ہے، اس کا ایک مظاہرہ ۱۹۹۰ میں منڈل کمیشن کے خلاف تحریک کی صورت میں ہوا۔ یہ تحریک اتنی شدید تھی کہ تقریباً ۱۰۰ ہندو نوجوانوں نے خود سوزی کا انتہائی اقدام کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ منڈل کمیشن نے پست طبقہ کے لوگوں کے لئے سرکاری ملازمتوں میں ۲۷ فیصد رزرویشن دے دیا تھا۔ اوپر کا ہندو طبقہ اس کو دیکھ نہیں سکتا تھا کہ پست طبقہ کے افراد اس طرح سرکاری سروسوں میں ان کے برابر پہنچ جائیں۔ اونچے طبقہ کے ہندو نوجوانوں نے اس کے خلاف اتنی زبردست تحریک چلائی کہ سابق وزیراعظم وی پی سنگھ کی حکومت ہل گئی۔ یہاں تک کہ ۷ نومبر ۱۹۹۰ کو مسٹر سنگھ نے اپنے عہدہ سے استعفا دے دیا جس نے منڈل کمیشن کی تجاویز کو رائچ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کاسٹ سسٹم ہندو قوم کے اتحاد میں ایک ابدی رکاوٹ ہے۔ اس سسٹم کے ہوتے ہوئے ہندو قوم کبھی متحد نہیں ہوسکتی۔ اور جہاں اتحاد نہ ہو وہاں طاقت کا وجود بھی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page