ہندوستان کدھر
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر ہند و قوم میں اتحاد لانے کا طریقہ کیا ہو۔ صف اول کے ایک ہندو جرنلسٹ (گری لال جین) نے اس پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہند و قوم کے پاس متحد ہونے کی کوئی مثبت بنیاد موجود نہیں ۔ وہ صرف منفی جذبہ کی بنیاد پر متحد ہو سکتی ہے۔ اور یہ منفی جذبہ موجودہ حالات میں صرف مسلم دشمنی ہے۔ موصوف نے لکھا ہے کہ ہم اینٹی مسلم احساس کو بھڑکا کر ہی ہندوؤں کو متحد کر سکتے ہیں۔ مگر منفی بنیاد پر پیدا کیا جانے والا اتحاد کبھی مثبت فائدہ کا سبب نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کا اتحاد تخریبی نتیجہ دکھا سکتا ہے مگر وہ تعمیری کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ مسٹر گری لال جین نے ہندو سماج کی اس مشکل کا ذکر (ٹائمز آف انڈیا ۷ جولائی ۱۹۸۷) کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس طرح ہم دو طرفہ مشکل میں مبتلا ہیں۔ کیوں کہ جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں: Thus what is possible is not desirable, and what is desirable is not possible. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند و سماج کتنی زیادہ بے بسی کی حالت میں ہے۔ وہ خود اپنی بنیاد پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس کو کھڑا ہونے کے لئے لازمی طور پر ایک خارجی سہارا درکار ہے۔ اگر یہ خارجی سہارا موجود نہ ہو تو اس کی دیوار اپنے آپ گر پڑے گی، بغیر اس کے کہ کسی تے براہ راست طور پر اس کو گرانے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے نادان لیڈر بابری مسجد تحریک کو حد تناسب سے باہر لے گئے۔ انھوں نے بابری مسجد کے نام پر دھواں دھار تحریک چلا کر ہندوؤں کو یہی سہارا فراہم کر دیا۔ ہندوؤں کے انتہا پسند لیڈروں نے مسلمانوں کے پر جوش قائدین کے لفظی طوفان کو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ انھوں نے اس کے ذریعہ سے اپنی قوم میں اینٹی مسلم فیلنگ پیدا کر دی۔ وہ چیز جس کو ہند و لہر (Hindu wave) اور ہندو اتحاد کہا جاتا ہے ، وہ تمام تر اسی اندھی اینٹی مسلم فیلنگ پر کھڑا ہوا ہے جس کا موقع خود ہمارے نادان لیڈروں نے ۱۹۸۶ اور ۱۹۹۰ کے درمیان اپنی سطحی کار روائیوں کے ذریعہ فراہم کیا۔ عبرت ناک بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر مسٹر لال کرشن آڈوانی کی رتھ یاترا یکم اکتوبر ۱۹۹۰ کو سومناتھ سے شروع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader