Urdu book · روشن مستقبل

نادان دوست

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

نادان دوست نئی دہلی کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر کے شمارہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۹۰ میں مسٹر جے دو باشی کا مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہند وہیر (The Hindu Wave) ہے ۔ دوسفرہ کے اس مضمون میں انھوں نے پر فخر طور پر لکھا ہے کہ مہند دوستان کی لہریں، اور اڈوانی کی رھتہ یاترا اس لہر کی ایک علامت ہے : The Hindus are the wave of the future. And Advani's Rath Yatra is a symbol of that wave. یہ بات مختلف انداز سے ان ہندو صاحبان کی طرف سے کہی جارہی ہے جو بابری مسجد کو ڈھا کر اس کی جگہ رام مندر بنانے کی پر تشد دہم چلا رہے ہیں۔ اس عنوان پر جذباتی تقریریں کر کے انھوں نے شمالی ہند کے کچھ ہندوؤں کو اپنے ساتھ جمع کر لیا ہے۔ اس کو وہ "ہند وہیر" سے تعبیر کرتے ہیں ۔ شری اڈوانی کا رتھ جس کو دس ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے سومنات سے اجودھیا پہنچنا تھا، وہ رام رتھ نہیں بلکہ نفرت اور تشد د کار تہ تھا۔ اس کا مقصد منفی بنیاد پر ہندوؤں کو متحد کرنا تھا۔ اس تحریک کے پیچھے جو ذہن کام کر رہا ہے، اس کا اندازہ وشو ہندو پریشد کے جنرل سکریٹری مسٹر اشوک سنگھل کے بیانات سے ہوتا ہے۔ مثلاً انھوں نے ۷ نومبر ۱۹۹۰ کو دہلی میں تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو وارننگ دی کہ وہ اجودھیا کی بابری مسجد کو ڈھاک کر وہاں رام مندر بنانے کے منصوبے کی مخالفت نہ کریں۔ ورنہ ہم ملک میں تین ہزار مسجدوں کو ڈھاک کر وہاں مندر بنانے کی تحریک شروع کر دیں گے (ٹائمس آف انڈیا ۸ نومبر ۱۹۹) اس قسم کی باتیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی ، وشو ہند و پریشد اور بجرنگ دل کے لوگوں کی طرف سے کہی جارہی ہیں ، اور اس کے نام پر عوام کی بھیڑ اکٹھا کی جارہی ہے ، کیا اسی کا نام ہند وہیر ہے ۔ کوئی بھی شخص جو ہندو دھرم کو جانتا ہو، وہ اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ ماننے پر مجبور ہو گا کہ یہ ہند و لہر نہیں ہے ، زیادہ صحیح لفظ میں وہ اینٹی ہند وہیر ہے۔ اور برعکس طور پر اس کو ہند و لہر کہا جا رہا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page