Urdu book · روشن مستقبل

نادان دوست

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندُو دَھرم کی تعلیمات میں دو چیزیں بے حد بنیادی ہیں۔ ایک رواداری، اور دوسرے عدم تشدد ۔ آپ ہندُو دَھرم کی کسی بھی کتاب کو اٹھائیں ، اس میں آپ کو یہ دونوں باتیں لکھی ہوئی ملیں گی۔ یہ ہندُو دَھرم کی وہ خصوصیات ہیں جن کا ذکر اس کے تمام مفکرین اور مصلحین نے پر فخر طور پر کیا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۳) جلد ۸ میں ہندُوازم (Hinduism) کے عنوان سے نہایت مفصل اور تحقیقی مقالہ ہے۔ اس میں درج ہے کہ ہندُوازم ، بطور اصول، عقیدہ اور عبادت کے تمام طریقوں کا احترام کرتا ہے۔ ایک ہندُو ہر مذہب کو سچائی کا اظہار سمجھتا ہے۔ ہندُوازم بطور اصول کے ہر مذہب کے حق میں روادار (tolerant) ہے ، خواہ وہ کوئی بھی مذہب ہو۔ (صفحہ ۸۸۸) دوسری بات کے سلسلہ میں بر ٹانیکا میں بتایا گیا ہے کہ ہندُوازم کا ایک نہایت اہم اصول اہمسا ہے۔ یعنی تشدد نہ کرنا۔ اسی لئے ہندُوازم سختی کے ساتھ حیوان کے ذبیحہ کو منع کرتا ہے اور سبزی خوری پر زور دیتا ہے۔ ہندُو مفکرین کے مطابق ، اہمسا ہندُو مذہب کی ایک بے حد بنیادی قدر ہے۔ اہمسا ہندُو اخلاقیات کا ایک مرکزی اصول (keystone) ہے (صفحہ ۸۸۹) اس اعتبار سے دیکھے تو رام جنم بھومی تحریک ، اپنی موجودہ شکل میں ، واضح طور پر ہندُو دَھرم کے خلاف ہے۔ اس میں نہ ہی رواداری کو کچلا جا رہا ہے ۔ اس میں نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ اس میں تشدد کا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس بنا پر یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس تحریک نے جو لہر پیدا کی ہے ، وہ اینٹی ہندُو اورہر ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں ہندُو لہر۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے ہزاروں ہندوؤں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ اور اس کو غیر ہندُو تحریک بتایا ہے۔ مثال کے طور پر آنجہانی کلایتی ترپاٹھی ، ہندُو دَھرم کے ایک مسلمہ عالم تھے۔ انھوں نے اپنی آخر عمر میں جون ۱۹۹۰ میں " سامپر ادانگ سمیا" کے نام سے ہندی میں ایک مقالہ لکھا تھا جو چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ ہندوستان ٹائمز (۲۰ اکتوبر ۱۹۹۰ ) میں اس کا انگریزی تعارف شائع ہوا ہے۔ اس میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مسئلہ کا بھی ذکر ہے۔ مترجم کہتے ہیں : Lambasting the Vishwa Hindu Parishad and the Rashtriya Swayam Sevak Sangh, the elderly statesman said the very idea of demolishing a mosque was a negation of Hindu ethos. “It is a fascist idea and will break the country,” he added.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page