Urdu book · روشن مستقبل

نیا دور

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

اضافہ کے ساتھ یہ تمام چیزیں پالیں گے۔ ۱۔ اس کا ایک المناک نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان ہندوستان میں غیر ضروری طور پر مایوسی کا شکار رہے۔ وہ سمجھتے رہے کہ ہندوستان میں ان کے لئے زندگی اور عمل کے مواقع نہیں ہیں۔ اور اس کی وجہ، نا اہل لیڈ روں کے بیان کے مطابق، یہ تھی کہ ملک میں انہیں بعض اوقات نا خوشگوار حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب مسلمانوں نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ ناخوشگواری کسی خاص ملک کی صفت نہیں بلکہ وہ دنیا کی صفت ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر جگہ، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک، اس قسم کے حالات لازما پیش آتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ حکمت اور تدبیر کے ساتھ ان سے نپٹا جائے ۔ یہ حالات در اصل چینلج ہیں اور چینلج، خود تخلیق خداوندی کے مطابق، زندگی کا حصہ ہے۔ چینلج کے ذریعہ ہی انسانیت ترقی کرتی ہے۔ اگر چینلج نہ ہو تو انسانیت کا قافلہ معطل ہو کر رہ جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس دریافت کے بعد ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں نئے حوصلہ کے ساتھ زندگی کی تعمیر کریں گے۔ ۲۔ لیڈروں کی غلط رہنمائی کا دوسرا نقصان جو پچھلے برسوں میں مسلمانوں کو اٹھانا پڑا وہ یہ تھا کہ وہ اسلام کی بتائی ہوئی ایک عظیم طاقت سے محروم ہوگئے ۔ قرآن میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا۔ (۴۱ : ۴۳) اسلام کی یہ تعلیم ایک ایسا اخلاقی ہتھیار ہے جس کے اندر تسخیر کی لامحدود صلاحیت ہے۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے اس اخلاقی طاقت کو استعمال کرکے اپنے بد ترین دشمنوں کو زیر کر لیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بھی اس اسلامی تعلیم کا یہ فائدہ حاصل کرسکتے تھے مگر نا اہل لیڈروں کی غلط رہنمائی نے انہیں اس نعمت سے محروم رکھا۔ اب مسلمانوں نے جو نیا سفر شروع کیا ہے اس میں انشا اللہ وہ اس اسلامی تعلیم کا بھر پور فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ ۳۔ نا اہل لیڈروں کی غلط رہنمائی کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ سلمان ملک کی ایک اہم حقیقت سے بے خبر رہ گئے جو سرا سر ان کی موافقت میں تھی۔ کوئی شخص اگر اپنے ماحول کے بارہ میں منفی انداز سے سوچنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page