Urdu book · روشن مستقبل

نیا دور

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

نیا دور پچھلے پچاس برس سے تمام سطحی لیڈر یہ کہہ رہے تھے کہ جب اشتعال انگیزی کی جائے گی تو مسلمان ضرور مشتعل ہوں گے ۔ یہ اصول سراسر غیر معقول اور غیر اسلامی تھا۔ لیکن مسلمانوں نے لیڈروں کے پر فریب الفاظ میں آکر اسے اختیار کر رکھا تھا۔ مگر حالات بتاتے ہیں کہ اب وہ اس فریب سے باہر آچکے ہیں ۔ اب انھوں نے جان لیا ہے کہ اشتعال انگیزی ہو تب بھی انھیں مشتعل نہیں ہونا ہے۔ ان کے جذبات کو چھیڑا جائے تب بھی انھیں اعراض کرکے اس سے گزر جانا ہے۔ اکتوبر ۱۹۹۰ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر کی ، ہزار کلومیٹر کی رتھ یاترا ایودھیا ناتھ سے شروع ہو کر اجودھیا میں ختم ہونے والی تھی ، اس نے اپنے طویل سفر کے دوران بار بار اشتعال انگیزی کی صورت حال پیدا کی۔ مگر مسلمان بہر ابر اعراض کے اصول پر قائم رہے۔ ۳۰ اکتوبر کو بابری مسجد کے گنبدوں پر بھگوا جھنڈ الہرادیا گیا۔ اس کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا اور تمام اخبارات میں اس کی تصویریں چھپیں ۔ اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں درجنوں مقامات پر فسادات ہوئے۔ اس قسم کے مختلف اشتعال انگیز واقعات بار بار ہوتے رہے ۔ مگر مسلمانوں نے ایک بار بھی کسی مقام پر رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہر موقع پر وہ کامل صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے رہے۔ وہ اپنے صابرانہ طریقہ سے فساد کی آگ کو بجھاتے رہے۔ یہ ایک عظیم الشان تبدیلی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست میں ۱۹۹۰ کے آخر میں ظہور میں آئی ہے ۔ مسلمانوں نے پہلی بار اپنے نا اہل لیڈروں کو رد کر دیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلامی اصول کے مطابق ، وہ اشتعال انگیزی کے مقابلہ میں صبر کی روش اختیار کریں گے ، وہ برے سلوک کا جواب اچھے سلوک سے دیں گے۔ مسلمانوں نے اپنے اس نئے فیصلہ میں صرف ایک چیز کھوئی ہے ، وہ ان کے نااہل لیڈر ہیں۔ اس کے سوا انھوں نے تمام چیزوں کو پالیا ہے۔ مسلمانوں کی یہ نئی دریافت انھیں مبارک ہو۔ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی خود ان لیڈروں کو تو بہت کچھ دیتی رہی۔ مگر اس کے نتیجہ میں مسلمان پچھلی نصف صدی تک نہایت قیمتی چیزیں کھوتے رہے۔ اب ان شاء اللہ اپنے نئے فیصلہ کے تحت وہ مزید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page