Urdu book · سبق آموز واقعات

بلند اخلاقی کی ایک مثال

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے اپنے زمانہ کے انگریز افسران کے بہت سے واقعات بتائے۔ ان میں سے ایک واقعہ مسٹر مارسڈن (Marsdon) کا تھا جو اس وقت راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر تھے۔ 1943 کا واقعہ ہے، مسٹر مارسڈن سردار صاحب کے قصبہ میں آئے۔ ان کو گوجر خان کی تحصیل کا معائنہ کرنا تھا۔ تحصیل جانے سے پہلے سردار صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ سردار صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھائیے۔ مسٹر مارسڈن نے دعوت قبول نہ کی اور وہ تحصیل چلے گئے۔ کچھ دیر بعد دوبارہ مسٹر مارسڈن کی کار سردار صاحب کے مکان کے سامنے رکی۔ وہ باہر نکلے تو سردار صاحب نے کہا: اگر آپ نے میری دعوت قبول کرلی ہوتی تو اتنی دیر میں میں نے کھانا تیار کر لیا ہوتا اور آپ کھانا کھا کر یہاں سے جاتے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر نے اب بھی سردار صاحب کی کھانے کی دعوت قبول نہ کی۔ البتہ اپنی لڑکی کو جو اس وقت ساتھ تھی، سردار صاحب کے مکان پر چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ کل تک آپ کے یہاں رہے گی۔ آپ جو کچھ کھلانا چاہتے ہیں اس کو کھلائیے۔ سردار صاحب حیرت میں تھے کہ یہ محمہ کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب خود تو ایک وقت کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور لڑکی کو کئی وقت کے لیے چھوڑے جا رہے ہیں۔ ان کو متجب دیکھ کر مسٹر مارسڈن نے کہا: اصل بات یہ ہے کہ راولپنڈی میں میرے کچھ عزیز آئے ہوئے ہیں، مجھے وہاں پہنچ کر ان کے ساتھ کھانا کھانا ہے، کیونکہ میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں۔ مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ لوگوں پر یہ تاثر ہو کہ ڈپٹی کمشنر صاحب یہاں آئے اور انھوں نے آپ کے مکان پر کھانا نہیں کھایا۔ اس سے آپ کی عزت پر اثر پڑے گا۔ آپ کی عزت کو بچانے کے لیے میں لڑکی کو آپ کے یہاں چھوڑے جا رہا ہوں: I want to keep your prestige بڑا آدمی وہ ہے، جو دوسرے کے بارے میں بھی اتنا ہی حساس ہو، جتنا کوئی شخص اپنے بارے میں ہوتا ہے۔ جو دوسرے کی بے عزتی کو اپنی بے عزتی سمجھے، اور دوسرے کی عزت کو اپنی عزت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page