Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف سے مقدمہ کو دیکھیں ۔ یہ کہہ کر انھوں نے قاضی غلام امام کو اپنے مقدمہ کے کاغذات دیے اور سفر پر روانہ ہوگئے ۔ قاضی غلام امام کے لیے اس اعتماد کو مجروح کرنا نا ممکن تھا ، جو ان کے فریق نے ان پر کیا تھا۔ انھوں نے مخدوم عالم کے مقدمہ کی پیروی کا کام اپنے ذمہ لے لیا اور خود اپنے کاغذات کسی دوسرے کے حوالے کر دیے ۔ اب صورت یہ ہوئی کہ قاضی غلام امام کے اپنے مقدمہ کی پیروی تو دوسرا شخص کر رہا ہے اور وہ خود اپنے فریق مخالف قاضی مخدوم امام کی طرف سے مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور یہ سب مصنوعی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود ہار گئے اور ان کے مخالف قاضی مخدوم عالم جیت گئے ۔ ( حسب روایت جعفر شاہ پھلواری ، مطبوعہ ماہنامہ زندگی ، ستمبر 1980 ) یہ بہادری اور اعلیٰ ظرفی کی بات ہے کہ آدمی اصول کے آگے جھک جائے ، نہ کہ وہ اصول کو خود اپنے آگے جھکائے ۔ وہ نقصان اور فائدہ اور عزت اور بے عزتی کے خیالات سے اوپر اٹھ کر اصول کے تقاضوں کو اپنا لے۔ اسی طرح یہ آدمی کی بہادری اور اعلیٰ ظرفی ہے کہ اگر اس کا مخالف بھی اس کے اوپر اعتماد کر لے تو وہ اس کے اعتماد کو مجروح نہ کرے ۔ بلند اخلاقی کی ایک مثال 27 ستمبر 1973 ء کی بات ہے۔ پنڈی جیولرس ( چاندنی چوک ، دہلی ) میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ سردار بشن سنگھ ہیں۔ بی ۔ 28 ساؤتھ ایکسٹینشن پارٹ 2، نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ وہ ضلع راولپنڈی کے باشندے تھے۔ تقسیم کے بعد یہاں چلے آئے۔ راولپنڈی سے 30 میل کے فاصلہ پر گوجر خاں ایک قصبہ ہے، وہاں ان کی زمین داری تھی۔ اسی کے ساتھ وہ اس وقت آنریری مجسٹریٹ بھی تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page