Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

اتنی رغبت نہیں کہ وہ جمعہ کی خاطر سفر کر کے باہر جائیں اور مرکزی مقام پر جمعہ کی نماز ادا کریں۔ ان کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے میں نے وہاں جمعہ کی نماز شروع کرا دی تھی تا کہ کسی طرح وہ عادی ہو جائیں۔ حضرت شاہ محمد یعقوب مجددی نے یہ سنا تو فرمایا کہ آپ بالکل صحیح کہتے ہیں۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اس کے بعد اگلے جمعہ کو وہ دوبارہ گاؤں میں گئے اور لوگوں سے کہا کہ مذکورہ عالم کا جمعہ قائم کرنا بالکل صحیح تھا۔ ”اصل یہ ہے کہ میں نے متن دیکھا تھا، حاشیہ نہیں دیکھا، حاشیہ میں وہ مسئلہ موجود ہے، جو مولوی صاحب نے تم لوگوں کو بتایا۔ اب تم لوگ پہلے کی طرح یہاں نماز جمعہ ادا کرو۔“ اس کے بعد خود وہاں کے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ اور پھر شہر واپس آئے۔ ہمت کے ذریعہ سیف اللہ خاں (پیدائش 1952ء) ایک نوجوان انجینئر ہیں۔ وہ ٹونک (راجستھان) کے ایک شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے گھر کے مالی حالات اچھے نہ تھے۔ ہائر سیکنڈری میں انھوں نے سائنس لی تھی، مگر اچھے نمبر نہ لاسکے۔ ہائر سیکنڈری کا نتیجہ آیا تو اس نے ان کو صرف یہ خبر دی کہ وہ ”علم کے دروازہ“ میں داخل ہونے کی کوشش میں ناکام ہو چکے ہیں۔ سیف اللہ خاں بازی ہار چکے تھے، مگر وہ ہمت نہیں ہارے تھے۔ ہائر سیکنڈری کے امتحان میں ناکامی نے ان کے اندر حوصلہ کا ایک نیا طوفان پیدا کر دیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ گھر کے حالات ان کے لیے مزید تعلیمی جدوجہد کے سلسلہ میں حوصلہ افزا ثابت نہ ہوں گے۔ انھوں نے ایک نئے اقدام کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا آبائی وطن ٹونک چھوڑ کر بھوپال چلے گئے، اور جاتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ اب میں ٹونک اسی وقت واپس آؤں گا، جب کہ میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر لوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page