ہمت کے ذریعہ
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
سیف اللہ خان بھوپال میں اکیلے تھے۔ مگر اکیلے ہو کر انہوں نے اپنے کو زیادہ طاقتور بنا لیا تھا۔ اب نہ ان کے شاعر دوست تھے جو اپنی تازہ غزل سنیا کر ان کا وقت چھینے کی کوشش کریں۔ نہ گھر کے وہ حالات ان کے سامنے تھے، جو ان کے ذہن کو مسلسل منتشر کرتے رہتے تھے۔ نہ وہ ماحول تھا جو ان کی نا کامی کو یاد دلا کر ان کے حوصلے پست کر دیتا تھا۔ اب وہ تھے اور ان کی جدوجہد تھی۔ انہوں نے ٹیوشن کے ذریعہ اپنی ضروریات کا انتظام کیا اور خاموشی کے ساتھ تعلیمی محنت میں لگ گئے۔ ہر سہارے کا ٹوٹنا ان کے لیے زیادہ بڑا سہارا بن گیا۔ کیوں کہ اس نے ان کی چھپی ہوئی تمام قوتوں کو جگا دیا تھا۔ سیف اللہ خان نے بھوپال میں اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے بے پناہ جدوجہد کی۔ پہلے انہوں نے انجینئرنگ کا ڈپلوما لیا۔ اس کے بعد ان کو بھوپال میں ایک ملازمت مل گئی۔ اب وہ ٹیوشن کی دوڑ دھوپ سے آزاد ہو گئے۔ تاہم انہوں نے تعلیم نہیں چھوڑی۔ ملازمت کے دوران ہی انھوں نے بھوپال سے 70 میل دور و بیشہ کے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا اور بالآخر وہاں سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر لی۔ تقریباً آٹھ سال تک ان کا معمول یہ تھا کہ صبح 4 بجے اٹھنا، دو گھنٹہ ریل کے سفر کے بعد و بیشہ پہنچنا، وہاں کلاس میں حاضری دے کر واپس آنا اور پھر ملازمت کی ڈیوٹی انجام دینا، اور اس سے فراغت کے بعد کورس کی کتابیں پڑھنا۔ اس دوران ان کے گھر میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ بھوپال کے تقریباً دس سالہ قیام میں ان کو طرح طرح کے خطوط ملتے رہے۔ مگر وہ ہر خط کو پڑھ کر نہایت خاموشی سے رکھ دیتے ۔ وہ یکسوئی کے ساتھ 10 سال تک اپنے عہد پر قائم رہے۔ انھوں نے کسی بات کا اثر لیے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ اپنے لیے کامیاب زندگی حاصل کرنے کی تڑپ نے ان کے اندرونی احساس کو اتنا طاقتور کر دیا کہ تمام ناموافق حالات کے باوجود انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور بالآخر اپنی منزل پر پہنچ گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader