Urdu book · سبق آموز واقعات

تاریخ ساز بنے

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو صرف یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ اس کو جس چیز نے ڈسا ہے، وہ سانپ نہیں بلکہ چوہا ہے۔ یہی حال ہماری قوم کا ہے۔ ہماری قوم اس وقت اپنے مسائل سے اس قدر پریشان ہے کہ زندگی کا حوصلہ تک اس سے رخصت ہو رہا ہے، مگر یہ پریشانی حقیقی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ اگر قوم کے دل میں یہ بات اتاری جا سکے کہ تمہارا مسئلہ چوہا ہے کا مسئلہ ہے، نہ کہ سانپ کا مسئلہ تو قوم کی حالت بالکل بدل جائے گی اور وہ حوصلہ اور اعتماد کی ان تمام نعمتوں کو دوبارہ پالے گی جن کو وہ موجودہ حالت میں کھو چکی ہے۔ (محمد خالد عظمی ، پیدائش 1928، اردو لیتھو پریس، اسٹریٹ نمبر 4، شاہدرہ ، دہلی) اسلامی تاریخ پر مطالعہ ڈاکٹر تارا چند جنھوں نے اسلامی تاریخ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر تارا چند (1973-1888) فارسی زبان بہت اچھی جانتے تھے۔ اسی لیے پنڈت نہرو نے 1952ء میں ان کو ایران کا سفیر مقرر کیا تھا۔ انھوں نے سر اکبر (اپنش د کا فارسی ترجمہ از داراشکوہ) کو ایڈٹ کیا تھا جس کو حکومت ایران نے خصوصی اہتمام کے ساتھ چھپوایا۔ 1913ء میں انھوں نے میور سنٹرل کالج الہ آباد سے امتیاز کے ساتھ تاریخ میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ کائستھ پاٹھ شالہ (ڈگری کالج) میں استاد ہو گئے۔ کائستھ پاٹھ شالہ ٹرسٹ کے صدر کرنل رنجیت سنگھ ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے ٹرسٹ کے اگزا یکیٹیو کے سامنے تجویز پیش کی کہ نو جوان استاد کوریسرچ کے لیے یورپ بھیجا جائے۔ بیشتر ممبروں نے شدت سے اس تجویز کی مخالفت کی۔ مگر کرنل رنجیت سنگھ نے بزدرا اس تجویز کو منظور کرایا اور ان کے سفر کے تمام انتظامات کیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page