Urdu book · سبق آموز واقعات

ڈاکٹر تارا چند

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد ڈاکٹر تارا چند آکسفورڈ گئے۔ وہاں وہ کوئینز کالج میں تین سال (1919-1922) رہے، اور ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان تھا— ہندوستانی کلچر پر اسلام کا اثر : The influence of Islam on Indian culture حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت انھوں نے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر چار جلدوں میں ایک کتاب لکھی۔ اس کی کتاب کی تیاری میں اپنی آخری زندگی کے 14 سال صرف کیے ۔ اس کتاب کی پہلی جلد 1961 میں اور چوتھی جلد 1973 میں شائع ہوئی ۔ مسٹر سریش رام نے بجاطور پر لکھا ہے کہ یہ کتاب ڈاکٹر تارا چند کے غیر جانب دارانہ رائے قائم کرنے (dispassionate judgment) کا حیرت انگیز نمونہ ہے۔ 1937 میں یوپی میں کانگریس کا مسلم لیگ کو وزارت میں شریک نہ کرنا ایک انتہائی نزاعی مسئلہ ہے۔ مگر اس کے بارے میں ڈاکٹر تارا چند نے لکھا: Admitting that there could be two opinions concerning the constitutional propriety of the decision to refuse the appointment of the Muslim leaguers to the Congress cabinet, it is diffcult to justify its wisdom. (Vol. 4, P.238) یہ مانتے ہوئے کہ کانگریس کابینہ میں مسلم لیگی نمائندوں کو شریک کرنے کی قانونی اہمیت پر دو راہیں ہوسکتی ہیں، اس کی معقولیت کو ثابت کرنا سخت مشکل ہے ۔ (نیشنل ہیرلڈ، لکھنؤ، 7 نومبر 1976ء) ڈاکٹر تارا چند کا خاتمہ بظاہر اس بات کی علامت تھا کہ غیرمسلموں میں وہ نسل اب ختم ہو گئی جو اردو، عربی، فارسی زبانیں جانتی ہو اور اسلامی تاریخ اور مسلم تہذیب کے پس منظر میں سوچنے کی علمی صلاحیت رکھتی ہو۔ مگر حالیہ برسوں میں پیٹرول کی کرامت نے از سر نو عربی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page