Urdu book · سبق آموز واقعات

تمهید

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

تمہید انسان کی زندگی میں جو واقعات آتے ہیں وہ گویا تاریخ کی عملی کتاب کے اوراق ہیں۔ یہاں زندگی کی تمام حقیقتیں اپنے واقعاتی روپ میں متشکل ہو رہی ہیں۔ زندگی کی تلخیاں اور شیرینیاں، کردار کی پستیاں اور بلندیاں اور خارجی حقائق کے مقابلہ میں انسان کی رسائی اور نارسائی، سب یہاں کسی نہ کسی کی زندگی کی صورت پذیر ہو رہی ہیں، سب کو تاریخ کے واقعاتی اسٹیج پر دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم دیکھنے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک یہ کہ زندگی کے واقعات کو بس ایک سرسری تماشائی کی نظر سے دیکھا جائے ۔ یہ دیکھنا گویا کیمرہ جیسا دیکھنا ہے، جو دیکھتا ہے مگر نصیحت نہیں لیتا۔ وہ دیکھنے کے بعد بھی کچھ نہیں پاتا۔ دوسرا دیکھنا یہ ہے کہ ان واقعات کو "انسان" کی نظر سے دیکھا جائے ۔ یعنی آدمی جو کچھ دیکھے ان پر وہ غور بھی کرے ۔ اس کی آنکھ نے جو کچھ پایا ہے، اس کو وہ اپنے دماغ سے بھی پانے کی کوشش کرے ۔ بظاہر دونوں دیکھنا بالکل یکساں معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ صرف دوسری قسم کے دیکھنے ہی کو دیکھنا کہا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے نہ دیکھنا۔ انسان کے اندر اعلیٰ ترین صلاحیت فہم و بصیرت کی صلاحیت ہے۔ آدمی جس چیز کو فہم و بصیرت کی سطح پر نہ پائے، اس کو انسان کا پانا نہیں کہا جاسکتا۔ انسان کی زندگی اپنی متنوع صورتوں کے ساتھ ہر قسم کے واقعات کا ریکارڈ ہے ۔ ہر انسان کی زندگی میں دوسرے انسان کے لیے سبق موجود ہے۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنیا میں رہے تو اپنے ہم جنسوں (fellow human being) کے واقعات میں وہ اتنی کافی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page