Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

برعکس، خود اپنے ملک کے لارڈ ڈنسٹن چرچل (1965-1874ء) کے لیے ان کے پاس مکار(imposter) اور خبطی (lunatic) کے الفاظ ہیں۔ اس فرق کی وجہ ہم کو خودان کے اعتراف میں مل جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایک انتہائی قسم کا خود پسند (self centered) آدمی ہوں۔ بہت کم ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کسی دوسرے کے اندر بڑائی کا اعتراف کروں: I will rarely admit greatness in others لارڈ چرچل نے برطانیہ کی وزارت عظمیٰ کا مقام حاصل کر لیا۔ یہ وہ عہدہ ہے جس کے لیے لارڈ ریتھ اپنے آپ کو سب سے زیادہ موزوں سمجھتے تھے۔ چرچل کا تصور آتے ہی ان کے اندر حریفانہ نفسیات کام کرنے لگتی تھی، جبکہ ہٹلر ان کے لیے ایک غیر متعلق شخص تھا، ہٹلر کا نام ان کے اندر معاصرانہ نفسیات پیدا انہیں کرتا تھا۔ یہ تھی سادہ سی وجہ مذکورہ بالا فرق کی۔ میں سوچ رہا ہوں راجہ راؤ (2006-1908ء) ایک میسوری برہمن ہیں اور ہندوستان کے مشہور فلسفی ہیں۔ ہندوستان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد 1929ء میں وہ مزید مطالعہ کے لیے پیرس گئے ۔ اور 1950ء میں پہلی بار امریکہ کا سفر کیا۔ 1973ء میں امریکہ کی ٹیکس یونیورسٹی میں ان کو فلسفہ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے بلایا گیا۔ اس قیام کے دوران ایک امریکی مصنفہ الزبتھ وہیل نے ان سے مفصل انٹرویو لیا۔ الزبتھ وہیل دو بار ہندوستان آ چکی ہیں ۔ انٹرویو کا ایک فقرہ یہ ہے: راؤ اپنی ذہنی زندگی کی حفاظت کرنے میں بڑے مستعد ہیں ۔ وہ بغیر کسی احساس ندامت کے محض اس بنا پر کسی ملاقاتی سے ملنے سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ "سوچ" رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page