سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مقام پر لا کر ڈالا گیا جہاں آج سڈنی ہے، تو اس وقت یہاں کھانے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ مایوسی اور جھنجلاہٹ میں یہ لوگ آپس میں لڑ لڑ کر مرنے لگے۔ مگر آج آسٹریلیا ایک مکمل طور پر خود کفیل براعظم ہے۔ وہ 400 کروڑ روپے کا گیہوں ہر سال برآمد کرتا ہے اور دنیا کی اون کی کل پیداوار کا چوتھائی سے بھی زیادہ حصہ یہاں پیدا ہوتا ہے۔ قدرتی مناظر سے بھر پور اس ملک کے باشندوں کا معیار زندگی دنیا کے انتہائی چند ترقی یافتہ ملکوں میں سے ایک ہے۔ قومی کردار دوسری جنگ عظیم میں جب کہ برطانوی فوج کے سامنے یہ مہم تھی کہ وہ ڈنکرک میں پھنسے ہوئے پانچ لاکھ فوجیوں کو فوری طور پر نکالے۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے قوم سے اپیل کی کہ جن لوگوں کے پاس کشتیاں اور اسٹیمر ہیں، وہ بطور خود ان کو فلاں مخصوص مقام پر پہنچادیں۔ پوری قوم نے اس اعلان کی تعمیل اس طرح کی کہ کوئی ایک شخص بھی نہ بچا جس نے اپنی کشتی اور اسٹیمر مقررہ مقام پر نہ پہنچادی ہو۔ ایک انسانی کمزوری لارڈ ریتھ (1971-1890ء) بی بی سی لندن کے ’’فادر‘‘ کہے جاتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے ۔ اور انھوں نے برطانوی عوام کے اندر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ۔ 525 صفحات پر مشتمل ان کی ذاتی ڈائری (The Reith Diaries) شائع ہوئی ہے۔ ڈائری میں حیرت انگیز طور پر وہ ہٹلر (1945-1889ء) کے لیے شان دار کارکردگی (Magnificent Efficiency) کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader