Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بے اعتمادی کی فضا یہ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کا واقعہ ہے۔ میں بکنگ کی کھڑکی پر اپنا ٹکٹ لے رہا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا۔ اس کو کسی مقام کا ٹکٹ لینا تھا جس کی قیمت پانچ چھ روپے ہوتی تھی۔ اس نے ریزگاری بکنگ کلرک کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنا ٹکٹ مانگا۔ مٹھی بھر ریزگاری (small coins) دیکھ کر کلرک بگڑ گیا۔ ”روپیہ لے آؤ۔ ہم کب تک اس کو گنتے رہیں گے“ اس نے کہا اور دوسرے مسافر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ دیہاتی آدمی کھڑکی سے نکل کر باہر آ گیا۔ مجھے اس کی حالت پر ترس آیا۔ میں اس کے قریب گیا اور اس سے کہا کہ یہ ریزگاری مجھ کو دے دو اور اس کے بدلے مجھ سے نوٹ لے لو۔ دیہاتی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک لمحہ کے لیے اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر خاموشی سے ایک طرف روانہ ہو گیا۔ دیہاتی نے میری پیش کش کیوں قبول نہ کی۔ اس کی وجہ بے اعتمادی ہے۔ ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جہاں کسی کو دوسرے پر بھروسہ نہیں۔ آج اگر کوئی شخص کسی پر مہربان ہوتا ہے تو صرف اپنے فائدہ کے لیے، نہ کہ حقیقتاً دوسرے کی مدد کے لیے۔ دیہاتی نے غالباً یہ سوچا کہ میرے پاس کچھ خراب نوٹ ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر میں ان کو دیہاتی کی ریزگاری سے بدل لینا چاہتا ہوں۔ اور ہمارے عوامی رہنما ! بیر گنج، نیپال کا ایک قصبہ ہے، جو ریاست کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ نیپال کے مہاراجہ اور مہارانی یہاں حفاظتی عملہ یا افسروں کے غول کے بغیر تنہا گھومتے رہے۔ ان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page