Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

سواری ایک معمولی سائیکل رکشا تھا۔ غریب رکشے والا دن بھر کا تھکا ہوا اپنی معمولی کمائی پر افسردہ چلا جا رہا تھا کہ ایک جوڑے نے اس کو روکا، جو سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا اور اس پر سوار ہو گئے۔ دونوں سواروں نے شہر کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور رکشے والا ان ”سیاحوں“ کو خوشی خوشی قصبہ کی سیر کرا تا رہا۔ اور مختلف مقامات کے بارے میں ان کو بتاتا رہا۔ آدھ گھنٹہ کی سواری کے بعد دونوں مسافر رکشے سے اتر گئے۔ رکشے والے کو اس وقت سخت حیرانی ہوئی جب اس نے دیکھا کہ دونوں مسافروں نے اسکو کرایہ کے طور پر دو ہزار روپے دیے ہیں۔ مہاراجہ نیپال کے لیے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ وہ اکثراسی طرح بھیس بدل کر ریاست کے مختلف مقامات پر جاتے ہیں تا کہ غریب عوام کے مسائل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔ موت کے وقت تو بہ پچاس برس پہلے کی بات ہے جب کہ ساری دنیا میں یورپ کی مسیحی قوموں کا غلبہ تھا۔ قاہرہ کے ایک عیسائی مشنری مسٹر واٹسن سے ایک شخص نے پوچھا: کتنے دنوں سے آپ مسیحی تبلیغ کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ ”پچاس سال سے“ پادری نے جواب دیا ”اتنے دنوں میں کتنے مسلمانوں نے عیسائیت کو اختیار کیا۔“ اس کا اگلا سوال تھا۔ ”تقریباً ڈیڑھ سو “ پادری نے کہا۔ اور پھر فوراً ہی بولا: ”مگر پھر بھی آپ کو خبر دار رہنے کی ضرورت ہے۔“ سوال کرنے والے کے لیے پادری کا یہ جملہ غیر متوقع تھا۔ ”اس سے آپ کی کیا مراد ہے“ اس نے دوبارہ پوچھا۔ اس کے بعد پادری نے جو جواب دیا وہ تھا: They are apt to become Christian for material motives. Then at their death they recant.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page