Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ لیکن اردو بڑی سخت جان ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ لفظ ”اردو“ کیا معنی رکھتا ہے؟ اس لفظ کے معنی ہیں لشکر ۔ گویا یہ ایک لشکر ہے جس پر ہندوستانی زبان کبھی فتح نہیں پاسکتی۔“ (ورڈکٹ آن انڈیا، 1944) اس قسم کا استدلال صرف ادبی استدلال ہوتا ہے، اور ضروری نہیں کہ حقیقت واقعہ بھی ادبی استدلال کے ساتھ موافق کرے ۔ شعر و شاعری اور خطابت کے رواج نے ہماری ذہنی زندگی میں جو خرابیاں پیدا کیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خالص حقیقت پسندانہ اور سائنٹفک اندازِ فکر ہمارے یہاں پیدا نہ ہوسکا ۔ کتنے عالی دماغ لوگ اس قسم کے دلائل کے بھروسہ پر صدیوں جیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کی خیالی دلیل خارجی حقیقت سے ٹکرائی تو معلوم ہوا کہ وہاں سرے سے کوئی دلیل ہی موجود نہ تھی۔ وہ صفحہ جو خالی رہا مولانا عبد الماجد دریا بادی ( 1892-1977 ء) مولانا محمد علی (1931-1878ء) کے بارے میں فرماتے ہیں: ”میرے دوست مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت بھی میرے لیے مشعل راہ ثابت ہوئی ۔ بیتاب ہو کر تڑپ کر جوش وخروش سے للکارتے تھے: عبد الماجد اٹھو، چل کر ملحد یورپ میں تبلیغ اسلام کریں“ (صدق جدید، لکھنؤ، 2 جون 1977 ) - ڈاکٹر محمد اقبال (1877-1938ء) نے آخر عمر میں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ جس کا نام انھوں نے تجویز کیا تھا: An Introduction to the Study of Quran

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page