Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

اشتعال کے بغیر جب غصہ دلانے والی بات کی جائے تو اس کے جواب کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی بپھر اٹھے اور ناقد پر لعن طعن کرنے لگے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ناقد کی بات کو بالکل ٹھنڈے ذہن سے سنا جائے۔ اس کی بات کے غیر متعلق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل بات کا جواب بالکل سادہ طریقے سے دے دیا جائے۔ دونوں طریقوں میں صرف دوسرا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ اس سلسلے یہاں چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ 1۔ ابن عبد البر اندلسی (م 463ھ) لکھتے ہیں: رَوَيْنَا أَنَّ طَاوُسًا وَوَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ الْتَقَيَا، فَقَالَ طَاوُسٌ لِوَهْبٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، بَلَغَنِي عَنْكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ. فَقَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ حَمَلَ قَوْمَ لُوطٍ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ. قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ، ثُمَّ سَكَتَ. قَالَ: فَقُلْتُ: هَل أخْتَصَمَا؟ قَالَ: لَا (جامع بيان العلم وفضله، جلد 2، صفحہ 95)۔ یعنی، ہم سے بیان کیا گیا کہ طاؤس اور وہب بن منبہ دونوں ایک دوسرے سے ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا۔ اے ابو عبد اللہ، آپ کے بارے میں مجھے ایک بڑی سنگین بات پہنچی ہے۔ انھوں نے پوچھا، وہ کیا۔ طاؤس نے کہا، میں نے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے قوم لوط کے بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر چڑھایا تھا۔ یہ سن کر وہب نے کہا، اللہ کی پناہ۔ پھر دونوں چپ ہو گئے۔ میں نے راوی سے پوچھا۔ کیا دونوں میں بحث ہوئی ۔ انھوں نے جواب دیا نہیں۔ 2۔ مولانا احمد علی لاہوری کے صاحبزادے مولانا حبیب اللہ لاہوری نے مولانا سید حسین احمد مدنی (1957-1879ء) کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ دار العلوم دیو بند میں مولانا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page